.

گرایا جانے والا ایرانی ڈرون درحقیقت امریکی طیارے کا ورژن تھا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی عہدے داران اور ہوابازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تل ابیب نے جو ایرانی ڈرون طیارہ مار گرایا تھا، اس طیارے کو تہران نے 2011 میں امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی کو جدید بنا کر تیار کیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکوس اور انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے اسرائیلی وزیر ويوفال اشٹائنٹز کے مطابق حالیہ ایرانی ڈرون دراصل RQ-170 ماڈل کے امریکی جاسوس طیارے کا ورژن ہے۔

تہران نے 2011 میں حاصل ہونے والی امریکی ٹنکالوجی پر انحصار کرتے ہوئے ڈرون طیاروں کے کئی ماڈل تیار کیے۔

اسرائیل نے بتایا تھا کہ مذکورہ ایرانی ڈرون کو شام میں ایک اڈے سے چھوڑا گیا اور وہ اسرائیلی فضائی حدود میں 3 سے 4 میل تک اندر آ گیا تھا۔ ادھر ایران اس بیان کو مسترد کرتا ہے اور باور کراتا ہے کہ ڈرون طیارے نے شامی حدود کو عبور نہیں کیا تھا۔ تہران نے اسرائیلی کہانی کو "بے ہودہ" قرار دیا ہے۔

اس واقعے کے نتیجے میں شام اور اسرائیل کی سرحد پر شدید جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں 1982 کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کا کوئی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا اور پھر اسی دوران اسرائیل نے شام پر اب تک کی سب سے بڑی بم باری بھی کی۔

امریکی عہدے داران کے بتا چکے ہیں کہ ایران نے 2011 میں جس امریکی ڈرون طیارے پر قبضہ کیا تھا وہ اُن خفیہ طیاروں کے بیڑے کا حصّہ تھا جن کو امریکی مرکزی انٹیلجنس CIA نے ایرانی جوہری تنصیبات کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔

امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نگرانی اور سروے کے لیے مخصوص اس ڈرون طیارے کو واپس کر دے تاہم تہران نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر معافی مانگے۔

ایران نے امریکی ڈرون ٹکنالوجی سے تیار کیے جانے والے اپنے پہلے ورژن کا تجربہ 2014 میں کیا۔ اس کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز نے 2016 میں ایرانی ڈرون طیارے "صاعقہ" یعنی کڑکتی بجلی کا انکشاف کیا۔ ایران کے مطابق "صاعقہ" طیارہ 4 لیزر بموں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ماہرین نے باور کرایا کہ طیارے کو مسلح کرنے کی صورت میں یہ ریڈار سے روپوش نہیں رہ سکتا۔

اسرائیلی فوج نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا ہفتے کے روز گرایا جانے والا ایرانی ڈرون مسلح تھا یا نہیں البتہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ "یہ اپنے مشن پر تھا"۔

مسلح ڈرون طیاروں کے حوالے سے یورپی فورم کے رابطہ کار وم زوئجنبرگ کا کہنا ہے کہ ایران نے اس سے قبل شامی فضاؤں میں اس نوعیت کا طیارہ استعمال نہیں کیا، ممکنہ طور پر ایران اس علاقے کو اسلحے کے تجربے اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیت جانچنے کے واسطے استعمال کر رہا ہو۔ زوئجنبرگ کے مطابق ایرانی ڈرون اس حد تک جدید نہیں کہ وہ اسرائیلی ریڈار سے مخفی رہ سکے۔