.

القرضاوی کے معاون کا بیٹا داعش میں شامل، والد کو شدید صدمہ

عُمر کو اس کے اہل خانہ مردہ قرار دے کر دفن کرچکے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں اخوان المسلمون کے ایک سرکردہ رہ نما اور جماعت کے روحانی لیڈر علامہ یوسف القرضاوی کے معاون ابراہیم الدیب نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا ایک بیٹا جزیرہ سیناء میں سرگرم شدت پسند گروپ’داعش‘ میں شامل ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ابراہیم الدیب نے داعش کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں ان کے بیٹے عمر کو داعش کے جنگجوؤں کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔

اس سے قبل ابراہیم الدیب اور ان کے اہل خانہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ پولیس نے ستمبر 2017ء کو پولیس نے جبری طورپر اغواء کے بعد قتل کردیا تھا اور اس کی لاش بھی چھپا دی تھی۔

قطرمیں مقیم ابراہیم الدیب نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ’محافظین شریعت‘ کے عنوان سے جاری کی گئی ویڈیو میں جس نوجوان کو دکھایا گیا ہے کہ وہ ان کا بیٹا 23 سالہ عمر ابراہیم الدیب ہی ہے۔ عمر کے والد نے اپنے بیٹے کی داعش میں شمولیت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ گذشتہ برس نو ستمبر کو ملنے والی ایک لاش کواپنے بیٹے کی لاش سمجھ کر اسے دفن کرچکے تھے۔

ابراہیم الدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا سنہ 2009ء میں ملائیشیا میں زیرتعلیم تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مصر گیا جہاں وہ اچانک لاپتا ہوگیا تھا۔ چند دن کے بعد اس کی ہم شکل ایک لاش ملی اور ہم نے اسے عمر کی لاش سمجھ کر المنصورہ شہر کے آبائی قبرستان میں دفن کردیا۔ آج سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر وہ حیران اور پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی داعش میں شمولیت اس کی موت کی خبر سے سےبڑا صدمہ ہے۔

انہوں نے شدت پسندوں پر الزام عاید کیا کہ دہشت گردوں نے ان کے بیٹے کو فکری اور نظریاتی طورپر بہکایا ہے۔