.

شام میں داعش کے ہاتھوں ہلاک چار امریکی یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی خصوصی فورسز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی ) کے ایجنٹ شام میں داعشی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے تین امریکی یرغمالیوں اور ایک عورت کی باقیات کی تلاش میں ہیں اور وہ داعش کے دو گرفتار جنگجوؤں سے اس سلسلے میں پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔

اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایجنٹ شام میں دو صحافیوں جیمز فولے اور اسٹیفن سوٹلوف ،امدادی کارکن عبدالرحمان ( پیٹر کیسج) اور مقتولہ کیالا میولر کی باقیات کی تلاش کررہے ہیں۔

ان میں اول الذکر تینوں امریکی یرغمالیوں کو داعش کے بدنام زمانہ جلاد جہادی جان نے 2014ء میں بے دردی سے ذبح کر دیا تھا اور ان کی ویڈیوز انٹر نیٹ پر پوسٹ کی گئی تھیں۔کیالا میولر داعش کے زیر حراست تھی اور وہ 2015ء میں پُراسرار طور پر ہلاک ہوگئی تھی۔

اس کی موت کے بارے میں داعش نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکا کی قیادت میں اتحاد میں شامل اردن کے ایک لڑاکا طیارے کی جنگجو گروپ کے شام میں ایک حراستی مرکز پر بمباری میں ہلاک ہوگئی تھی لیکن اردنی اور امریکی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

اس وقت امریکی ایجنسیوں کے حکام داعش کے دو گرفتار ارکان سے ان چاروں کی لاشوں کے بارے میں پوچھ تاچھ کررہے ہیں کہ انھیں قتل کے بعد کہاں ٹھکانے لگایا گیا تھا۔

ان دونوں جنگجوؤں کے نام الیکسندا کوٹے اور الشافعی الشیخ ہیں ۔ یہ دونوں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروپ ’’دا بیٹلز ‘‘ کا حصہ رہے تھے۔اس گروپ کا لیڈر اور داعش کا جلاد محمد اموازی المعروف جہادی جان 2015ء میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔دا بیٹلز کا ایک رکن عینی ڈیوس 2017ء میں ترکی میں پکڑا گیا تھا۔