.

شام: 250 جنگجوؤں کے خود کو حوالے کرنے کے بعد اِدلب صوبہ داعش سے پاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صوبے اِدلب میں منگل کے روز داعش تنظیم کے جنگجوؤں نے خود کو اپنے اہل خانہ سمیت "اسلامی" عسکری گروپوں کے حوالے کر دیا جس کے بعد ایسا نظر آتا ہے کہ صوبے میں کم از کم عارضی طور پر تو سکون کی لہر دوڑ جائے گی۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ "المرصد" اور اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے مطابق اس وقت اِدلب صوبہ مکمل طور پر داعش تنظیم سے خالی ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے ایک وڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں کئی داعشی نظر آرہے ہیں۔ ان میں ایک عراقی بچّے کے علاوہ انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے جنگجو شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے داعش تنظیم کے تقریبا 250 جنگجوؤں نے اپنے اہل خانہ سمیت خود کو حوالے کیا۔ یہ پیش رفت ادلب کے قصبے الخوین میں ان لوگوں کا محاصرہ کر لیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

ادھر شامی اپوزیشن کے ایک مسلح گروپ جیش النصر کے ترجمان ابو المجد الحمصی نے بتایا کہ علاقے میں دو روز سے گھمسان کی لڑائی جاری تھی۔ ترجمان کے مطابق داعش کے جنگجوؤں کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان کے ساتھ پوچھ گچھ کی جائے گی تا کہ ان کے پھیلائے گئے سیلوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے جنگجو اسلامی گروپوں نے 2014 میں داعش تنظیم کو اِدلب صوبے سے نکال دیا تھا۔ تاہم چند ہفتے قبل وہ واپس لوٹنے میں کامیاب ہو گئی۔

اس کے بعد داعش نے حلب ، حماہ اور اِدلب صوبوں کے درمیان سرحدی علاقے میں اپنے زیر قبضہ علاقے کو وسیع کر لیا۔

شامی حکومت کی فوج نے 9 فروری کو اعلان کیا تھا کہ حلب اور حماہ صوبوں سے داعش تنظیم کو مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے اور اب تنظیم کے قبضے میں جنوبی اِدلب میں چھوٹے سے علاقے کے سوا کچھ باقی نہیں رہا ہے۔