.

کویت کا عراق کی تعمیر نو کے لیے 2 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک عراق کی تعمیرِ نو سے متعلق کویتی فنڈ کے تحت دو ارب ڈالر کی رقم مختص کرے گا۔

بدھ کے روز عراق کی تعمیر نو کے حوالے سے کویت میں منعقد کانفرنس میں شیخ صباح کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں عالمی برادری اور عالمی بینک کے ساتھ تعاون موجود ہے۔

امیر کویت نے عہد کیا کہ یمن اور شام میں امن و استحکام کی واپسی کے بعد بھی دونوں ملکوں کی سپورٹ سے ہاتھ نہیں کھینچا جائے گا۔

ادھر عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر 50 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد میں سے نصف تعداد اپنے گھروں کو لوٹ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق بدعنوانی کے خلاف جنگ بھی جاری رکھے گا جو کسی طور دہشت گردی سے کم خطرناک نہیں۔

عراق کی تعمیر نو کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا آغازپیر کے روز کویت میں ہوا۔ بغداد کی جانب سے داعش تنظیم کے خلاف جنگ کے خاتمے کے اعلان کے دو ماہ بعد عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ عراق کی تعمیر نو میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے۔

عراق میں دہشت گردی کے سبب تباہی کا شکار علاقوں میں تعمیر نو سے متعلق فنڈ کے ڈائریکٹر مصطفی الہیتی کے مطابق "تعمیر نو کے حوالے سے بعض اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تک ہم عراق کو مطلوب رقم کا 1% سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں"۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوترش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ داعش تنظیم کے ساتھ جنگ کے بعد عراق کی تعمیر نو کی کوششوں کو سپورٹ کرے۔ یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بغداد حکومت 88 ارب ڈالر کی مالی امداد کی امید لگائے بیٹھی ہے۔

کویت میں عراق کی تعمیر نو سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے آخری روز بدھ کو اپنے خطاب میں گوترش نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عراقی عوام کے ساتھ اپنی خالص یک جہتی کا اظہار کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں وسائل کے حوالے سے سپورٹ پیش کی جائے۔

گوترش نے اقوام متحدہ کی جانب سے دو سال پر پھیلے امدادی پروگرام کا بھی اعلان کیا۔ اس پروگرام کا مقصد تعمیر نو کے منصوبے میں سماجی پہلوؤں کو لاگو کرنے کے حوالے سے عراقی حکومت کی مدد کرنا ہے۔