.

یمن: حوثیوں کے زیر انتظام عدالت کا علی صالح کی املاک ضبط کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغی حوثی ملیشیا کے زیر انتظام ایک عدالت نے ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں بالخصوص صنعاء ، الحدیدہ اور حجہ صوبوں میں سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح ، ان کے خاندان اور قریبی لوگوں کی تمام املاک اور جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ حکم حوثی ملیشیا کی قیادت کی ہدایت پر جاری کیا گیا ہے۔ صنعاء میں اس پر عمل درامد کا آغاز ہو گیا ہے جہاں گھروں اور دیگر جائیداد پر عدالت کی جانب سے ضبط کیے جانے کی تحریر آویزاں کی جا رہی ہے تا کہ انہیں حوثی ملیشیا کے قبضے میں دیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ضبطی کے عدالتی حکم میں سابق صدر ، ان کے رشتے داروں اور بعض ہمنوا کے نجی کمپنیوں مثلا ٹیلی کمیونی کیشن اداروں اور تجارتی بینکوں میں حصص بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ضبطی کے حکم میں علی صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی اور اس کے زیر انتظام بعض اداروں کی املاک اور مالی اثاثے بھی شامل ہیں۔