.

یمن:16 نئے قوانین کی منظوری کے لیے حوثیوں کا ارکان پارلیمان پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے قائم کی گئی سپریم سیاسی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد نے باغیوں کی زیر تسلط علاقوں پر گرفت مزید مضبوط بنانے کے لیے نام نہاد قوانین کا سہارا لینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صالح الصماد نے صنعاء میں موجود ارکان پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ 16 نئے قوانین کی جلد از جلد منظوری دیں تاکہ انہیں نافذ کر کے باغیوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق حوثی باغی گروپ مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت ‘پیپلز کانگریس‘ سے وابستہ ارکان کو نئے قوانین کی منظوری میں حصہ لینے پرمجبور کر رہا ہے۔ ان نئے قوانین میں باغیوں کو طاقت کے استعمال کی اجازت دینا، شہریوں کی املاک کی لوٹ مار، مزید ٹیکسوں کی بھرمار اور زیر تسلط علاقوں میں مفت تعلیم کی سہولت ختم کرنے کی سازشیں شامل ہیں۔

حوثیوں کی طرف سے علی صالح کے وفادار ارکان پارلیمنٹ اور اسپیکر کو غیرقانونی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ علی صالح کے وفادار ارکان پہلے ہی صنعاء میں گھروں میں جبری نظر بندی بھگت رہے ہیں اور انہیں حوثیوں کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثی علی صالح کے قریبی ارکان کو بلیک میل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے تیار کردہ قوانین میں زیادہ تر کا تعلق ٹیکسوں کے نفاذ سے ہے تاکہ شہریوں کی املاک کی لوٹ مار کا عمل مزید بڑھایا جا سکے۔ نئے سولہ قوانین میں زکواۃ، انسداد سائبر جرائم، سرکاری کان کنی کمپنی، جنرل سیلز ٹیکس، آمدنی پر ٹیکس، گاڑیوں پر ٹیکس، مواصلات، صحافت اور مطبوعات پر ٹیکس جیسے قوانین شامل ہیں۔

حوثی باغی ان نام نہاد قوانین کی آڑ میں شہریوں کی جیبیں خالی کرنے اور ان کی لوٹ مار کو آئینی جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہریوں کی طرف سے لوٹ مار کے حوثی دھندے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ حوثی انقلابی کونسل کے سربراہ نے پارلیمنٹ میں خالی نشستوں پر بھرتیوں کے لیے بھی غور پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا ساتھ دینے والے ارکان پارلیمان کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی گئی۔