.

’بن لادن اپنے بچوں کو پاکستانی اور افغان زبانیں سیکھانا چاہتے تھے‘

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی نامہ نگار کی زبانی بن لادن خاندان کا احوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے بانی سربراہ مقتول اسامہ بن لادن کے حوالے سے ’العربیہ‘ ڈاٹ نیٹ پر تواتر کے ساتھ رپورٹس شائع کی جاتی رہی ہیں۔ بن لادن کے حوالےسے بیشتر تحقیقاتی رپورٹس کا سہرا ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کی نامہ نگار اور صحافیہ ’ھدیٰ الصالح‘ کو جاتا ہے۔

ھدیٰ الصالح بن لادن خاندان کے حوالے سے کافی معلومات رکھتی ہیں۔ حال ہی میں ’العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے ھدیٰ نے بن لادن خاندان کے بارے میں دلچسپ گفتگو کی۔

بن لادن کی یاداشتوں پر مشتمل تفصیلات جن میں ان کے طرز زندگی، سادگی، جنگی حکمت عملی اور دیگر اہم معلومات شامل ہیں العربیہ ڈاٹ نیٹ کے صفحات کا حصہ بن چکے ہیں۔

’العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے ھدیٰ نے بتایا کہ بن لادن کی پانچ بیگمات میں سے ان کے 30 بچے بچیاں ہوئیں۔ بن لادن خاندان کے طرز زندگی میں سادگی کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کے گھروں میں ایئرکنڈیشن نہیں تھے۔ اس کا مقصد بن لادن کے بچوں کو مشکلات کا عادی کرنا تھا۔ سعودی عرب، سوڈان ، افغانستان کے تورا بورا اور ایبٹ آباد میں قیام کے دوران ان کے خاندان کو شدید معاشی اور طبی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بروقت علاج نہ ملنے کے باعث ان کے کئی بچے فوت ہو گئے اور ان کی بیگمات بھی بیمار ہوئیں۔ ان کی ایک اہلیہ کو بیٹی کو ڈاکٹر کودکھانے پر بھی شک تھا جس کی بنا پر بیٹی کو ڈاکٹر کو چیک نہیں کرایا گیا۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں بن لادن اور ان کے خاندان کے قیام سے واقف حال لوگوں کی گواہیوں اور صوتی پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ آخری عرصے میں بن لادن کے بیوی بچے بہت سی بنیادی ضروریات سے محروم تھے۔ وہ تنہا ہو کر رہ گئے تھے۔ بچوں کی تنہائی دور کرنے کے لیے اسامہ نے بچوں کو یوٹیوب پر بچوں کے مشہور پروگرام دیکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

بن لادن کے بچوں کو ان کے گھر میں عربی زبان کی تعلیم دینے کے ساتھ قطری نصاب تعلیم پڑھایا جاتا تھا۔ گھر میں محبوس بچوں کی تدریس کی ذمہ داری بن لادن کی بیوی خیریہ صابر کی تھی۔

ھدیٰ کا کہنا ہے کہ بن لادن اپنے بچوں کو پاکستان اور افغانستان کے معاشروں میں مدغم کرنے کے خواہاں تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بچوں کو پاکستان اور افغانستان میں بولی جانے والی زبانیں سیکھانے میں دلچسپی رکھی تاکہ مستقبل میں وہ اس معاشرے میں مدغم ہو سکیں۔