.

عراقی خواتین اپنے خاندان کی سپورٹ کے لیے ویٹ لفٹنگ میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں روزانہ سیاست ، دھماکوں اور داعش کے خلاف معرکہ آرائی سے متعلق خبریں تو آتی ہی رہتی ہیں تاہم بعض ایسے پہلو بھی ہیں جو عراق کے لیے روشن مستقبل کی امید پیدا کر سکتے ہیں۔ ان ہی امید کی کرنوں میں ویٹ لفٹنگ کی خواتین ٹیم بھی شامل ہے۔

ٹیم کی خواتین ارکان روزانہ عراق کے الصدر سٹی میں واقع پرانے جمنازیم میں ویٹ لفٹنگ کی تربیت حاصل کرتی ہیں۔

اکیس سالہ ہدی سلیم 2011 میں اس ٹیم میں شمولیت اختیار کرنے والی پہلی رکن تھیں۔ انہیں پانچ برس کی عمر سے ویٹ لفٹنگ کے مقابلے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔

ہدی کہتی ہیں کہ "بعض لوگوں کے نزدیک میں مردوں کو چیلنج کر رہی ہوں.. اس لیے کہ خواتین ویٹ لفٹنگ نہیں کرتیں.. تاہم میں ان سے کہتی ہوں کہ : نہیں، میں مردوں کو چیلنج کرتی ہوں، اس لیے کہ ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو مرد کرتے ہیں.. اگر وہ اس کھیل کو اپنا سکتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہیں، مردوں اور خواتین میں کوئی فرق نہیں ".

ویٹ لفٹنگ کی عراقی فیڈریشن کی جانب سے کیپٹن عباس احمد کو خواتین کی ٹیم تشکیل دینے کی ذمّے داری سونپی گئی تو انہیں تھوڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعد ازاں خواتین کی ٹیم ایشیائی چیمپیئن شپ میں شرکت کرنے میں کامیاب ہو گئی اور اس کی ارکان کئی تمغے لے کر وطن لوٹیں۔

کیپٹن عباس احمد کا کہنا ہے کہ "ہمیں ساز و سامان اور انفرا اسٹرکچر کی کمی کا سامنا ہے۔ اگر ہمیں زیادہ سپورٹ حاص ہو جائے تو ہم بین الاقوامی ٹیموں کے شانہ بشانہ ہوں۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود ہم کام کر رہے ہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں بھی شریک ہوتے ہیں"۔

عراقی ویٹ لفٹنگ کی ٹیم میں شامل خواتین ارکان اپنے اس کھیل کو آمدنی کا ذریعہ شمار کرتی ہیں اور اس سلسلے میں اپنے گھرانوں کی مدد بھی کر رہی ہیں۔ عراقی فیڈریشن کی جانب سے انہیں ماہانہ تقریبا 800 ڈالر کی رقم ملتی ہے جو اس عمر کی عراقی لڑکیوں کے لحاظ سے ایک بڑی رقم شمار ہوتی ہے۔

بیس سالہ خدیجہ اسماعیل بھی عراقی ویٹ لفٹنگ ٹیم کا حصّہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "مجھے ویٹ لفٹنگ سے محبت ہے۔ اس کھیل کے سبب میں اپنی اور اپنے خاندان کی آمدنی کو یقینی بناتی ہوں۔ یہاں جمنازیم کے اندر ہم ہیروز بن چکی ہیں"۔