.

قطر کی جانب سے حلیفوں کو چراغ پا کرنے کا سلسلہ جاری، ایردوآن کے لیے انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی جانب سے پالیسی قلابازیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب اس کا حلیف ملک ترکی بھی لپیٹ میں آنے سے محفوظ نہ رہ سکا۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے اندرونی حلقوں کی جانب سے صدر رجب طیب ایردوآن کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قریبی حلیف قطر سے ہوشیار رہیں۔

ترکی کی بیلکنٹ یونی ورسٹی میں توانائی کی عالمی پالیسی کی تدریس سے وابستہ پروفیسر پامیر نکدت نے "ڈوئچے ویلے" کو بتایا کہ قطر اور امریکی کمپنی Exxon Mobil نے 2017 میں قبرص کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد قبرص کے ساحلوں کے مقابل سمندری زون 10 میں تیل اور گیس کی تلاش کرنا ہے۔

قطر پٹرولیئم اور امریکی کمپنی ایکزون موبل یہ اعلان کر چکی ہیں کہ وہ اس حوالے سے تلاش کا پہلا کنواں 2018ء میں کھودنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی پوری شدت بلکہ پوری طاقت کے ساتھ ان کمپنیوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو بحیرہ روم کے مشرق میں گیس کے ذخائر کی دریافت پر غور کر رہی ہیں۔

نیٹو کی چھتری تلے حلیف ممالک ترکی اور یونان کے درمیان بھی اُس وقت سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے جب سے ترکی کے ساحلوں پر پہرہ دینے والے بحری جہازوں نے قبرص کے نزدیک تیل کی تلاش میں رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی اطالوی کمپنی قبرص کے خصوصی اکنامک زون میں کھدائی کرنے سے رک گئی۔

اس سلسلے میں ایک طرف اس امر کی پیش گوئی کرنا دشوار ہے کہ ترکی اپنے حلیف قطر کے ساتھ کیا طریقہ اپنائے گا.. دوسری طرف ترکی اور امریکا کے درمیان اختلاف کے جنم لینے سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔