.

’’ہم آپ کے لیے کام نہیں کرتے‘‘:عراقی سیاست دانوں کا مشیر خامنہ ای کو ٹکا سا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے مشیر علی اکبر ولایتی کے عراق کی اندرونی سیاست سے متعلق حالیہ بیانات پر ایک نئی تندو تیز بحث چھڑ گئی ہے۔علی اکبر ولایتی نے یہ کہا ہے کہ ایران پڑوسی ملک عراق میں لبرلز یا سول سوسائٹی کے کارکنان یا تہران کے معیار پر پورا نہ اترنے والے کسی شخص کو اقتدار میں آنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مختلف عراقی سیاست دانوں نے ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔عراق کے قومی اتحاد بلاک کے ایک رکن پارلیمان عبدالکریم ابطن نے علی اکبر ولایتی کو مخاطب ہوکر کہا ہے کہ ’’ عراقی ان کے لیے کام نہیں کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے العربیہ کے سسٹر ٹیلی ویژن چینل الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم ولایتی یا کسی اور کے لیے کام نہیں کرتے ہیں۔ہم عراقی ہیں اور ہمارا قومی منصوبہ بھی عراقی ہے۔ولایتی کو ممکن ہے کسی ایک یا دو عراقیوں (سیاست دانوں) پر اختیار حاصل ہو لیکن ہم انھیں عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ سنی یا شیعہ عراق پر کسی کی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔

دریں اثناء عراق کی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر راید فہمی نے کہا ہے کہ علی اکبر ولایتی کے بیانات عراق کے داخلی امور میں مداخلت کے غماز ہیں اور یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انھوں نے مسٹر ولایتی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات کی وضاحت کریں ۔

عراقی سیاست دان عزت شبن دار نے ملک کے اہلِ تشیع سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کے بیانات کی مذمت کریں۔انھوں نے کہا کہ ولایتی ہمیشہ ایسے الٹے سیدھے بیانات دیتے رہتے ہیں جن سے ایران اور اس کے عراقی اتحادیوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔