.

اسرائیل نے امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا : محمود عباس

مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر امن عمل کے تحت بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کے روز تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے اور وہ بطور ریاست قانون سے بالا تر اقدامات کررہا ہے۔

انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں اپنی تقریر میں 2018ء کے وسط میں بین الاقوامی مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر امن عمل کے تحت بیت المقدس ( مقبوضہ یروشلیم ) دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد کے بعد ایک کثیر الجہت بین الاقوامی میکانزم قائم کیا جائے‘‘۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ القدس کو فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے اور یہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔

فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ یہودیت کے ساتھ بطور مذہب ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ ہمیں تو قابض کے ساتھ مسئلہ ہے اور اس کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو۔

انھوں نے کہا :’’یہ بات حیران کن ہے کہ امریکا اب بھی تنظیم ِ آزادی ِ فلسطین ( پی ایل او ) کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور اس کے کام میں روڑے اٹکاتا ہے‘‘۔ وہ امریکی کانگریس میں 1987ء میں منظور کردہ ایک قانون کا حوالہ دے رہے تھے۔

صدر محمود عباس نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت کے لیے اپنی کوششو ں میں تیزی لائیں گے اور بین الاقوامی تحفظ کے حصول کی بھی کوشش کریں گی۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ریاستیں فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیں گی کیونکہ یہ اقدام مذاکرات کے منافی نہیں ہوگا بلکہ اس سے ان کو تقویت ملے گی۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر میں یک طرفہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد سے فلسطینی قیادت امریکا کو غیر جانب دار مصالحت کار یا ثالث کار کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرچکی ہے اور صدر محمود عباس ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا خود ہی مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں ثالث کار ہونے کے کردار سے دستبردار ہوگیا ہے۔

فلسطینی قائدین اب مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے تصفیے کے لیے عالمی سطح پر ایک اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنے پر زوردے رہے ہیں۔وہ صدر ٹرمپ کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے علاوہ امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امداد کی ذمے دار ایجنسی اُنروا کی سالانہ مالی امداد بند کرنے کے فیصلے پر بھی سخت نالاں ہیں۔