.

مصر : الاخوان کے سابق رہ نما ابوالفتوح کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے اٹارنی جنرل کی پیش کردہ ایک یادداشت کی بنا پر الاخوان المسلمون کے سابق رکن ،سابق صدارتی امیدوار اور ’’طاقتور مصر جماعت‘‘ کے سربراہ عبد المنعم ابو الفتوح سمیت پندرہ افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں۔

مصر کے اٹارنی جنرل نبیل صادق کو ایک وکیل سمیر صابری نے ایک درخواست دی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ عبدالمنعم ابو الفتوح اور ان کی جماعت کے ارکان کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جائیں۔

سمیر صابری کے بہ قول سپریم اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن دفتر نے ابو الفتوح کو مختلف الزامات کی بنا پر پندرہ روز کے لیے جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان پر عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے ، آئین کو سبو تاژ کرنے ، رجیم کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث ہونے ، قومی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنے ، افراتفری پھیلانے ، ریاستی اداروں کو ملک میں سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے روکنے ، صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے ، الاخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم سے تعلق اور ملک میں طوائف الملوکی کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اخوان کے ملک سے بھگوڑے لیڈروں سے روابط کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

ان وکیل صاحب کا کہنا تھا کہ 2015 ء کے دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل سے متعلق قانون نمبر 8 کے مطابق ابو الفتوح کے خلاف تمام شواہد موجود ہیں ۔اس لیے ان کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

مصری حکام نے منگل کی شب ابو الفتوح اور ان کی جماعت ’’ طاقتور مصر‘‘ کے بعض ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابوالفتوح کے بیٹے حذیفہ نے اپنے والد اور جماعت کے ارکان احمد عبدالجواد ، احمد سالم ، محمد عثمان ، عبدالرحمان حریضی ، احمد امام اور تامر جیلانی کی گرفتار ی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان تمام کا کیس سپریم اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن دفتر کو بھیج دیا گیا ہے۔