.

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کرد فورسز کے ترجمان نوری محمود نے ٹیلیفون پر’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ان کے اور شامی فوج کے درمیان عفرین میں باہمی تعاون کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شامی فوج کو عفرین میں آنے اور سرحد کا کنٹرول ہاتھ میں لینے کی درخواست کی تھی۔

ادھر دوسری جانب ترکی نے عفرین میں شامی فوج کے داخلے کاخیر مقدم کیا ہے مگر ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر شامی فوج کرد جنگجوؤں کے دفاع کے لیے آئی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

ترک وزیرخارجہ چاوش اوگلو نے اپنے اردنی ہم منصب ایمن الصفدی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عفرین میں شامی فوج کے داخلے پر انہیں کوئی مسئلہ نہیں مگر شامی فوج کو ہمارے ساتھ مل کر کرد ملیشیا کو کچلنا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شامی فوج کردوں کے دفاع کے لیے وہاں آئی تو ترک فوج کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔