.

"صحوہ" تحریک سے قبل اور اس کے بعد سعودی خاتون کے عبایہ کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی معاشرے میں جہاں ایک طرف پہلے سے کہیں زیادہ کشادگی اور روشن خیالی سامنے آئی ہے وہاں خواتین کے حوالے سے "عبایہ" کی صورت ایک پہلو سے پیچیدہ بھی بن گئی ہے۔

خواتین کی جانب سے ملبوسات میں تبدیلی کی خواہش خواہ وہ فیشن کے نام پر ہو یا مذہبی "بیداری" کے حوالے سے، اس نے عرب اور اسلامی معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں قدامت پسند خواتین میں جو پہلے سر پر سے برقع لیا کرتی تھیں، عبایہ کا ایک نیا نمونہ سامنے آیا ہے۔ اس کو "خمار" کا نام دیا گیا ہے اور یہ اپنی ہیئت میں شامی اور ترکی لباس سے ملتا جلتا ہے۔ خمار کی صورت یہ ہوتی ہے کہ خواتین اس میں سیاہ رنگ کا عبایہ کندھوں پر سے لیتی ہیں اور پھر سر پر سے ایک دوسرا سیاہ طویل کپڑا پاوں تک یا پھر آدھی پنڈلیوں تک آتا ہے۔ اس میں چہرہ مکمل طور پر چھپا ہوتا ہے۔

سر پر سے عبایہ لینے والی خواتین کی جانب سے ظاہری تبدیلی کی یہ پہلی کوشش نہیں۔ دیگر خواتین کو دیکھ کر اور معمولات زندگی کے لیے باہر نکلنے میں نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اس طرح کی تبدیلیاں وقت کی ضرورت بھی سمجھی جاتی ہیں۔

سعودی عرب میں عبایہ کی شکلوں میں نمایاں ترین تبدیلی اسلامی بیداری کی تحریک "صحوہ" کے دوران بالخصوص 1980ء کی دہائی کے وسط کے بعد سامنے آئی۔ اس زمانے میں خواتین کی جانب سے "بھڑکیلی زیبائش" کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا۔ اس دوران عبایہ نے وہ شکل اختیار کر لی جو 1970ء کی دہائی میں اور اس سے پہلے ہوا کرتی تھی۔ عبایہ میں ریشم کی جگہ بھاری کپڑے نے لے لی اور ساتھ ہی دستانوں کا استعمال بھی شروع ہو گیا۔

سال 1990ء میں عراق نے کویت پر حملہ کیا تو سعودی عرب نے کویتی خاندانوں کا استقبال کیا۔ کویتی خواتین کے نقاب کا طریقہ کار اور دیگر رجحانات سعودی خواتین میں منتقل ہوئے۔ اس کے نتیجے میں صحوہ گروپ میں غصّے کی لہر دوڑ گئی اور اسے "بھڑکیلی زیبائش" پھیلانے کا اقدام قرار دیا۔

سعودی عرب میں نجد کے علاقے کی خواتین سیاہ عبایہ کے استعمال سے قبل بڑی چادر سے خود کو ڈھانپا کرتی تھیں اور اسی سے اپنا چہرہ بھی چھپاتی تھیں، اس طرح کہ راستہ دیکھنے کی غرض سے تھوڑا سا حصّہ کھلا رکھتی تھیں۔ اس کے بعد برقع متعارف ہوا جس کو دیہی علاقوں کی خواتین نے اپنایا۔ کم سن بچیاں سر پر اسکارف رکھنے پر اکتفا کرتی تھیں جس کو "القحفيہ" کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ معاملہ ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا کاٹن ، ریشم ، اُون اور نائیلون کے درآمد شدہ کپڑے سے تیار کردہ عبایہ تک جا پہنچا۔

سر کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والا کپڑا مختلف ناموں سے جانا گیا۔ ان میں ام كريشہ، تریز، الحسا، مرضوفہ اور بور سعید شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سر پر پہننے والا مثلث شکل کا اسکارف متعدد رنگوں میں متعارف ہوا۔ یہ اس بات کا پتہ دیتا کہ لڑکی غیر شادی شدہ ہے۔

اگرچہ عبایہ نے اپنا روایتی سیاہ رنگ برقرار رکھا تاہم وقت کے ساتھ مختلف رنگوں کے کپڑوں میں سلے عبایہ بھی پھیل گئے۔ اس موقع پر صحوہ تحریک سے وابستہ شخصیات نے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا اور بازاروں سے رنگین عبایوں کو ہٹا لینے کا مطالبہ کر دیا۔

الجزیرہ اخبار کے لیے کالم لکھنے والی سعودی خاتون رقیہ الہویرینی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صحوہ تحریک کے نجد کے علاقے میں منتقل ہونے سے پہلے تک خواتین کے حلقوں میں نقاب متعارف نہیں تھا۔ سخت گیر متشدد حلقوں نے آنکھوں کے لیے ہلکے کپڑے کا پردہ لازم کر دیا جس کو اجنبی مردوں کی موجودگی میں آنکھوں پر ڈالا جا سکے۔ الہویرینی کے مطابق صحوہ تحریک کے بعد مردوں اور خواتین کے عام لباس کے نمونوں میں تبدیلی آئی۔ خواتین کے لیے عبایہ زیادہ بھاری ہو گیا۔ اس کے علاوہ دستانوں کا رواج بھی پھیل گیا جس کو اسکولوں ، یونی ورسٹیوں اور بازاروں میں پہننا لازم کر دیا گیا۔

مملکت میں 1985ء سے 1995ء کے دوران بازاروں میں حجاب ، سر کے رومال اور نقاب کی مختلف شکلیں سامنے آئیں۔ اس حوالے سے "الاسواق" جریدے کی جولائی 1995 کی اشاعت میں بتایا گیا کہ 1985ء سے 1990ء کے دوران پردے سے متعلق درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ یہ حجم 1985ء میں 1864 ٹن تھا۔ بعد ازاں 1990ء میں یہ حجم بڑھ کر 2582 ٹن اور پھر 1993ء میں 2815 ٹن تک جا پہنچا۔

اعداد و شمار کے مطابق 1994ء میں مملکت میں سر کے اسکارف اور نقاب کی طلب بڑھ کر 4.8 کروڑ تک پہنچ جانے کے باوجود ان اشیاء کو تیار کرنے والی صرف ایک فیکٹری ریاض میں تھی۔ اس کے نتیجے میں مذکورہ اشیاء کی درآمدات پر انحصار کیا گیا۔

اس طرح بھارت سعودی منڈی میں سر کے رومال درآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست بن گیا۔ اس کے بعد جنوبی کوریا ، پاکستان اور چین کا نمبر تھا۔

سعودی عرب میں پردے اور عبایہ اور ان میں جدّت طرازی کی کہانی ختم نہ ہو گی۔ یہ کہانی ایک ایسے آئینے کے طور پر باقی رہے گی جو معاشرے میں خواتین کے لباس کے حوالے سے مختلف رنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح "عبایہ کی نفسیات" بھی اپنے پیغامات دیتی رہے گی۔