.

الغوطہ الشرقیہ پر شامی حکومت کی وحشیانہ بم باری میں مزید 24 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کی جانب سے الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر وحشیانہ فضائی بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین کارروائی میں بدھ کے روز مزید 24 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دمشق کے نزدیک طویل عرصے سے محصور اس علاقے میں حالیہ جارحیت کے آغاز کے بعد سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 300 کے قریب پہنچ گئی ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق بدھ کے روز جاں بحق ہونے والے 24 شہریوں میں اکثریت کفربطنا قصبے پر بشار کی فوج کی جانب سے بیرل بم برسانے کے نتیجے میں لقمہ اجل بنی۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوترش نے منگل کی شام ایک بیان میں شام کے علاقے الغوطہ الشرقیہ میں جارحیت میں اضافے پر اپنی "گہری تشویش" کا اظہار کیا۔ گوترش نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانیت کے بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں جس میں شہریوں کا تحفظ شامل ہے۔

الغوطہ الشرقیہ پر منگل کے روز بشار حکومت کی بم باری کے نتیجے میں 106 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔