.

سعودی عرب نے قطر کو خطّے میں سرمایہ کاری کے تخت سے اُتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب مشرق وسطی کے خطّے میں تجارتی سمجھوتوں کا اہم ترین خالق بن چکا ہے۔ وہ خطّے میں سب سے بڑے اور اہم ترین سرمایہ کاروں کے تخت پر سے قطر کو ہٹا کر خود براجمان ہو چکا ہے۔

اقتصادی خبروں سے متعلق امریکی نیوز ایجنسی "بلومبرگ" کے مطابق سعودی عرب اپنے Sovereign Investment Fund کی مہربانی سے مشرق وسطی میں سمجھوتوں کا سب سے بڑا مالک بن گیا ہے۔ اس فنڈ کے ساتھ مملکت کے دنیا بھر میں اول نمبر پر آنے کے روشن امکانات ہیں۔

سعودی عرب کے "جنرل انویسٹمنٹ فنڈ" نے گزشتہ برس نئے منصوبوں میں 54 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے مقابل 2017ء میں قطر کی نئی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم صرف 3.5 ارب ڈالر تھا۔ بلومبرگ ایجنسی نے سعودی عرب کی ضخیم سرمایہ کاری کے سامنے قطر کی سرمایہ کاری کے حجم کو "بونا" قرار دیا۔

بلومبرگ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں قطر نے 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جب کہ اس عرصے میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری 5 ارب ڈالر سے تجاوز نہ کر سکی۔ تاہم 2017ء میں کایا یک دم پلٹ گئی اور قطر کی سرمایہ کاری کا حجم سکڑ کر 3.5 ارب ڈالر رہ گیا جب کہ سعودی عرب کی سرمایہ کاری 54 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

بلومبرگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے میدان میں سعودی عرب کی اس چھلانگ کا سہرا مملکت میں "اقتصادی تبدیلی کے منصوبے" کے سَر ہے۔

بلومبرگ کے مطابق سعودی انویسٹمنٹ فنڈ 224 ارب ڈالر کے حجم کے ساتھ عالمی درجہ بندی میں 11 ویں نمبر پر ہے جب کہ قطر کا سرمایہ کاری فنڈ اس درجہ بندی میں 9 ویں پوزیشن پر ہے جس کا حجم 320 ارب ڈالر ہے۔