.

مصری حکومت اسرائیل سے گیس درآمد کی ڈیل میں فریق نہیں : صدر السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ طے شدہ حالیہ گیس معاہدے میں فریق نہیں ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز دارالحکومت قاہرہ میں سرمایہ کاروں کے لیے مختلف سروسز سنٹرز کا افتتاح کیا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے وضاحت کی ہے کہ مصری حکومت ایک نجی کمپنی کے اسرائیل سے قدرتی گیس کی درآمد کے معاہدے میں بالکل بھی فریق نہیں ہے۔

صدر السیسی کا کہنا تھا کہ مصر کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتا ہے اور جو کچھ طے پایا ہے ، وہ مصر سے تعلق رکھنے والی ایک نجی کمپنی اور ریاست اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔

قبل ازیں اسرائیل نے مصر کی ایک نجی کمپنی ’’ڈولفینس ہولڈنگز ‘‘ کے ساتھ آیندہ دس سال تک پندرہ ارب ڈالرز کے عوض گیس برآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ مصر کے وزیر تیل طارق مُاّو نے بھی کہا ہے کہ حکومت کا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مصرکی پٹرولیم کی وزارت کے ترجمان حامد عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اسرائیل سے گیس درآمد کرنے کے اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو اس کی فریق دونوں نجی کمپنیاں گیس پائپ لائنز کے مقامی نیٹ ورک کو استعمال کریں گے اور مصر میں قدرتی گیس کو مائع گیس میں تبدیل کرنے کے اسٹیشن بھی استعمال کرسکیں گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گیس مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قوانین کے تحت اب کمپنیاں مقامی مارکیٹ میں گیس خرید ، درآمد اور دوبارہ فروخت کرسکتی ہیں اور وہ اس کو مائع گیس میں تبدیل کرکے دوبارہ برآمد بھی کرسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بہت سے ممالک مصر کی اس پیش کش سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔