.

یمن میں ہیضے کے بعد ’خناق‘ کی وباء سے 62 افراد لقمہ اجل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی وزارت صحت کی ایک بیان میں بتایا ہے کہ ملک میں خناق کی بیماری تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ گذشتہ برس اگست میں سامنے آنے والی خناق کی وباء نے تین فروری دو ہزار اٹھارہ تک 62 افراد کی جان لے لی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت صحت کے مطابق 933 شہریوں میں خناق کی تشخیص کی گئی گئے۔ یہ مرض یمن کی 23 میں سے 20 گورنریوں اور 333 ڈاریکٹویٹس میں سے 157 میں پایا گیا ہے۔

ادھر یمنی وزارت صحت کے سیکرٹری علی الولیدی نے کہا ہے کہ خناق کا شکار ہونے والے شہروں میں سب سے زیادہ اب اور الحدیدہ گورنریاں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ دونوں علاقے حوثی باغیوں کے زیرتسلط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے خناق اور دوسری امراض کے شکار افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے یمن میں خناق سے فوت ہونے والے شہریوں کی تعداد 66 اور متاثرین کی 1100 بتائی ہے۔

خیال رہے کہ خناق متعدی جراثیم سے پھیلتا ہے جو منہ، آنکھوں، ناک اور بعض اوقات جلد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے شکار ہونے والے بعض مریض دو سے چھ روز کے اندر اندر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

جنگ زدہ یمن میں خناق کے مرض کےلرزہ خیز انکشاف سے قبل ملک ہیضے کی ہلاکت خیز وباء کا بھی سامنا کرچکا ہے۔ ہیضے کے مرض سے بھی سیکڑوں شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔