.

روس کا شامی اپوزیشن پر الغوطہ میں جنگ بندی کی مساعی ناکام بنانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف اسدی فوج اور اس کی وفادار ملیشیا کی جانب سے مشرقی الغوطہ کے علاقے میں آتش وآہن سے قیامت برپا ہے اور دوسری طرف روس نے جنگ زدہ علاقے میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنانے کا الزام اپوزیشن پر عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی الغوطہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں مگر اپوزیشن کے عناصر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے مزاحمت روکنے اور اسلحہ پھینکنے کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث جنگ بندی کے لیے کوئی پیش نہیں ہو رہی ہے۔

روس کے جنگ بندی کے نگران سینٹر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی الغوطہ میں اپوزیشن فورسز نےشہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔ عام شہریوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو روس نے مشرقی الغوطہ کے معاملے پر سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا جس کا مقصد دمشق کے قریب محصور علاقے پر شامی فوج کی بمباری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونےوالی صورت حال کاجائزہ لینا تھا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر فاسیلی نیبنزیا نے کہا کہ مشرقی الغوطہ کے بارے میں جو کچھ ہم سن رہے ہیں اس کے تناظر میں سلامتی کونسل کا اجلاس ضروری ہے تاکہ ہم سب مل کر بحران سے نکلنے کی کوئی راہ نکال سکیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر شہزادہ زید بن زعد الحسین، فرانسیسی صدر عمانویل مکرون اور دیگر پر زور دیا کہ وہ مشرقی الغوطہ میں جاری لڑائی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

خیال رہے کہ دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ پر شامی فوج کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ 5 فروری سے جاری ہے۔ وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔