.

شام میں جنگ بندی کی قرارداد پر رائے شماری آج تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کے مطابق کویت اور سویڈن کی جانب سے شام میں 30 دن کے لیے عبوری جنگ بندی کی قرارداد پر سلامتی کونسل میں رائے شماری جمعہ کو نہیں کی جاسکی جس کے بعد رائے شماری آج کرائی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد پر رائے شماری میں تاخیر کا مقصد اس پر مزید مذاکرات کا موقع دینا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو یورپی کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹوسک نے کہا تھا کہ یورپی یونین نے شام میں فوری جنگ بندی کامطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرقی الغوطہ پر اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے شام میں تیس روز کی جنگ بندی کے لیے سویڈن اور کویت کی پیش کردہ قرارداد کی مکمل حمایت کی اور جلد ازجلد اس قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔

مسٹرٹوسک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران اور روس دمشق کے دو بڑے حلیف ہیں اور یہ دونوں ممالک شام میں اپوزیشن کے ٹھکانوں پر بمباری کے لیے بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں۔

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا تھا کہ وہ شام میں جنگ بندی کی قرارداد منظور کرانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائیں گے۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ انہین امید ہے کہ سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی کی قرارداد منظور کرلی جائے گی۔ انہوں نے بھی شام میں جنگ بندی کے بعد متاثرہ علاقوں میں فوری طورپر امدادی آپریشن شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یورپی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میریکل نے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کے ساتھ مل کر شام کے مشرقی الغوطہ کےعلاقے میں جنگ بندی اور مزید انسانی لاشیں گرانے کا سلسلہ روکنے کے تمام ممکنہ اقدامات کا عہد کیا ہے۔

درایں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں جنگ بندی کے بندی کے حوالے سے روس کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ روس کا شام میں جنگ بندی کے حوالے سے طرز عمل شرمناک ہے۔ وائیٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شام میں اسد رجیم، ایران اور روس مل کر جو کھیل کھیل رہے ہیں وہ انسانیت کےچہرے پر بدنما داغ ہے۔