.

روحانی کی "سائنس کی اسلام سازی" سے متعلق خامنہ ای کے منصوبے پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے ریاست کے سالانہ بجٹ میں "سائنسی علوم کی اسلام سازی" کے منصوبے کے لیے مختص کی گئی خطیر رقم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ اس منصوبے پر عمل درامد کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز 31 ویں الخوارزمی بین الاقوامی میلے سے خطاب کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ مذہبی اداروں پر اخراجات نے ملک کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے سائنس پر اسلامی چھاپ لگانے کے لیے حالیہ کوششوں کو "ناکام" قرار دیا۔

"خبر آن لائن" ویب سائٹ کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سائنسی علوم کے حوالے سے تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، گاڑی میں ڈیش بورڈ پر قرآن کا نسخہ رکھ لینے سے وہ اسلامی گاڑی نہیں بن جاتی۔ انہوں نے علوم کی اسلامی اور غیر اسلامی درجہ بندی پر بھی نکتہ چینی کی۔ روحانی کے مطابق سائنس کی بنیادوں کو قرآن یا مذہب میں تلاش کرنا اور کسی بھی سائنسی علم کی جڑوں کو آیات قرآنی یا دینی روایتوں سے جوڑنے کی کوشش درست نہیں ہے۔

روحانی نے کہا کہ علم کسی طور بھی نظریات کے ساتھ مربوط نہیں ہے۔ ایران میں مختلف حلقے ہیں مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بنیادی علوم بنیاد پرستوں کے لیے اور ریاضی علوم اصلاح پسندوں کے لیے ہیں۔ بعض لوگ ایک بڑی رقم خرچ کر کے طبیعیات اور کیمیاء کو اسلامی بنانا چاہتے ہیں۔ الجبرا الجبرا ہی ہے اور ریاضی بھی ریاضی ہی رہے گی۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای جامعات میں سماجی علوم پڑھانے کے سخت مخالف ہیں۔ وہ بارہا ان کے بدلے "اسلامی علوم" کی تدریس کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران کے آئندہ مالیاتی بجٹ میں مذہبی اداروں کے لیے مختص کی گئی رقم میں 10% کا اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح اس رقم کا مجموعی حجم 2 ہزار ارب ایرانی تومان یعنی 55 کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

اس سلسلے میں ایران کی مصطفی گلوبل یونی ورسٹی کے لیے 7.5 کروڑ ڈالر ، پاسداران انقلاب میں علی خامنہ ای کے نمائندے کی سرگرمیوں کے لیے 2.3 کروڑ ڈالر اور ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کے مزار کی دیکھ بھال اور خمینی کے افکار و نظریات پھیلانے کے لیے 1.7 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔