.

شام میں جنگ بندی کی قرارداد کی منظوری کے بعد اسدی فوج کی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں شام میں 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل نے امداد کی ترسیل اور طبی بنیادوں پر انخلا کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قرارداد شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی الغوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ سے جاری بمباری کے تناظر میں پیش کی گئی تھی تاہم ووٹنگ کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری مسلسل جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل میں 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد کی منظوری کے بعد بھی اسدی طیاروں کی طرف سے مشرقی الغوطہ پر وحشیانہ بمباری کی گئی۔

انسانی حقوق کی رصدگاہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز اسدی طیاروں کی بمباری میں 8 بچوں سمیت مزید 35 افراد مارے گئے۔شامی فوج کی فضائیہ کی جانب سے حرستا شہر میں چار فضائی حملے کیے گئے جن میں 21 شہریوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے جاری بمباری میں مشرقی الغوطہ میں121 بچوں اور 64 خواتین سمیت 500 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی پر فوراً عمل کیا جائے لیکن ساتھ میں انھیں جنگ بندی کے حوالے سے شام پر شک بھی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اس قرارداد کے منظور ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشرقی غوطہ پر فضائی بمباری کی گئی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ نے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کی ہے جس میں اب تک پانچ سو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں مرنے والوں میں 121 بچے شامل ہیں۔ روسی افواج کی مدد سے شامی حکومت کی فورسز نے اٹھارہ فروری کو بمباری شروع کی تھی۔

کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72 گھنٹوں بعد 30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے 48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے۔