.

مصری حکومت کے ناقد اور سابق صدارتی امیدوار ابو الفتوح کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر ی صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے ناقد سابق صدارتی امیدوار عبدالمنعم ابو الفتوح کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں۔انھیں 14 فروری کو کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے جلا وطن لیڈروں سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے الاخوان المسلمون کے سابق لیڈر ابو الفتوح اور دوسرے ان تمام افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اس نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ابو الفتوح کے خلاف جاری عدالتی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ان کے فنڈز دہشت گردی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

عبدالمنعم ابوالفتوح نے آیندہ ماہ مصر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی اور حزب اختلاف کے دوسرے لیڈروں کے ساتھ اس بائیکاٹ مہم کا حصہ بننے کی پاداش ہی میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ان انتخابات میں موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی بڑی آسانی سے دوبارہ منتخب ہوجائیں گے کیونکہ ان کے مخالف بیشتر صدارتی امیدواروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے یا پھر وہ خود ہی حکومت کے خوف سے انتخاب لڑنے سے دستبردار ہوچکے ہیں۔

ابو الفتوح نے لندن میں ایسے انٹرویوز دیے تھے جن میں انھوں نے مصری حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھیں لندن سے قاہرہ واپسی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس وقت وہ پندرہ روزہ ریمانڈ پر ہیں اور حکومت ان کا نام دہشت گردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر چکی ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ان کی گرفتاری کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ابوالفتوح نے ملک میں گڑ بڑ پھیلانے اور اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے الاخوان المسلمون کے جلا وطن ارکان سے روابط استوار کیے تھے۔واضح رہے کہ عبدالمنعم ابو الفتوح 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں آزاد امیدوار تھے۔ان انتخابات میں الاخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ایک سال کے بعد جولائی 2013ء میں تب مسلح افواج کے سر براہ اور وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔