.

مکہ مکرمہ میں ایڈز کے مریضوں کے چونکا دینے والے اعدادو شمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ماہ [فروری] کے اوائل میں مکہ مکرمہ میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ شہر میں 94 برماوین شہری ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں جو معاشرے کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتےہیں۔

حکومت نے ان تمام افراد کو ایک عمومی نوٹس جاری کیا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ متعلقہ حکام کے سامنے پیش ہوکراپنے علاج کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کریں مگر بار بار کی تاکید کے باوجود ان میں سے بعض لوگ نہ تو حکام کے سامنے پیش ہوئے اور نہ متعلقہ اسپتالوں میں اپنا معائنہ کرایا جس پر مکہ مکرمہ کے محکمہ صحت کوان تمام افراد کو حاضر کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینا پڑی۔

مکہ مکرمہ میں برماوی شہریوں کے نمائندہ مرکزکی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جن 94 افراد کو رواں ماہ کےدوران حاضر ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا انہیں چار ماہ قبل کہا گیا تھاکہ وہ مکہ معظمہ میں شاہ فیصل اسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرائیں اور ایڈز کے مرض کی تشخیص کی صورت میں ضرور علاج کو یقینی بنائیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا 14 برماوین زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 11 غیربرمی شہریوں میں بھی اس مرض کی تشخیص کی گئی ہے۔

برما سے تعلق رکھنے والے جن افراد نے اپنا طبی معائنہ نہیں کرایا ہے ان کے خلاف ضروری قانونی کارروئی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسے تمام مشکوک افراد کے ملازمت کے اجازت نامے منسوخ کردیے ہیں ار انہیں کسی بھی ہوٹل یا کسی دوسرے مقام پر کام کرنے کی اجازت نہیں۔

ہفتے کے روز مکہ گورنری کےترجمان سلطان الدوسری نے ایک بیان میں بتایا کہ برما سے تعلق رکھنے والے ایڈز کے تمام مریضوں کےساتھ پولیس کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان مشتبہ افراد کو کہا گیا کہ وہ فوری طور پرشہر میں قائم کردہ اسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرائیں۔ تاکہ ضروری علاج کا عمل شروع کیا جاسکے۔

ترجمان نے بتایا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر اور مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے مقام مقدسہ میں موجود ایڈز کے تمام مریضوں کے علاج اور ان کی تلاش کے لے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں محکمہ صحت کے حکام اور پولیس بھی شامل ہیں۔ حکام ایڈز کے مرض کے شکار ہونےوالے تمام افراد کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ان کا تعاقب جاری رکھیں گے۔