.

الغوطہ الشرقیہ پر شامی حکومت کی بم باری جاری ، مزید 10 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود بشار حکومت کی طرف سے الغوطہ الشرقیہ میں دوما اور حرستا کے علاقوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے نگراں شامی گروپ المرصد نے پیر کے روز بتایا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت کم از کم 10 شہری جاں بحق ہو گئے جن میں نو افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے پیر کے روز مطالبہ کیا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرار داد پر فوری عمل درامد کیا جائے۔

گوترش نے ہفتے کی شام سلامتی کونسل میں مںظور ہونے والی قرار داد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ "سلامتی کونسل کی قرار دادیں صرف اس وقت با معنی ثابت ہوتی ہیں جب انہیں عملی طور پر نافذ کیا جائے"۔

سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز شام میں جنگ بندی سے متعلق قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا تھا۔ کونسل کے سربراہ منصور العتیبی نے اس موقع پر تمام فریقوں سے پورے ملک میں 30 روز کے لیے فائر بندی کا مطالبہ کیا۔

العتیبی کے مطابق جنگ بندی کی اس قرارداد پر شام میں سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ایک اہم قدم کی حیثیت سے انحصار کیا گیا ہے۔ قرارداد میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام میں تمام محصور علاقوں میں امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دی جائے۔