.

رپورٹ : 41 ممالک کے ہزاروں جنگجو لیبیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد کے حوالے سے افغانستان ، عراق اور شام کے بعد لیبیا کا دنیا بھر میں چوتھا نمبر ہے۔ اس بات کا انکشاف واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے اپنے تحقیقی مطالعے میں کیا۔ اس مطالعے میں مارچ 2011ء سے اب تک مسلح شدت پسندوں کے لیبیا پہنچنے کا جائزہ لیا گیا۔

ان جنگجوؤں کی لیبیا آمد کا اعلانیہ مقصد قذافی کی حکومت کے خلاف لڑائی میں حصّہ لینا تھا۔ اس کے بعد سے انصار الشریعہ تنظیم عسکری کیمپ اور تربیتی نیٹ ورک قائم کرنے لگی۔ ساتھ ہی تیونس میں انصار الشریعہ ، مراکش میں القاعدہ تنظیم اور یہاں تک کہ شام میں مسلح جماعتوں کے ساتھ رابطہ کاری شروع کر دی۔

ان جماعتوں کو غیر مستحکم لیبیا کی شکل میں اپنے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور سرگرمیوں کا مرکز میسّر آ گیا۔

تحقیقی مطالعے کے مطابق گزشتہ سات برسوں کے دوران لیبیا میں غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد 2600 سے 3500 کے درمیان رہی، یہ جنگجو41 سے زیادہ ملکوں سے آئے۔

اگرچہ لیبیا میں سب سے بڑی شدت پسند جماعت داعش کا تنظیمی ڈھانچہ پڑوسی ملک تیونس سے جنگجوؤں کی بھرتی پر انحصار کرتا ہے تاہم واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق لیبیا میں داعش کی بھرتیوں کی کارروائیاں پڑوسی افریقی ممالک کو شامل کرنے کے علاوہ آسٹریلیا جیسے دور دراز علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔