.

عیسائیوں نے "القئیامہ" چرچ کیوں بند کردیا؟

اسرائیلی ریاست کے بے جا ٹیکسوں کے خلاف مسیحی برادری بھی سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف عاید کردہ ٹیکسوں کے خلاف فلسطینی مسیحی برادری بھی سراپا احتجاج ہے۔ مسیحی برادری نے گذشتہ روز احتجاج کا انوکھا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے بیت المقدس میں قائم تاریخی "القیامہ چرچ" کو بہ طور احتجاج بند کر دیا۔ یہ احتجاج اسرائیلی ریاست کی جانب سے بے جا ٹیکسوں اور چرچ کی ملکیت سے متعلق ایک متنازع قانونی بل کے خلاف کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق القیام گرجا گھر کو کل اتوار کو ظہر کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ القیام چرچ عیسائیوں کا قدیم تریم مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک یہ ان کا حج کا مرکزی مقام ہے۔

گذشتہ روز فلسطینی عیسائی رہ نمائوں اور پادریوں نے متفقہ طورپر القیامہ چرچ کو بند کرنے کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں صہیونی ریاست کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اقدامات کو جرمنی کے نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے خلاف منظور کردہ قوانین کے مشابہ قرار دیا۔

پادریوں نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے مقامات پر موجود گرجا گھروں پر ٹیکس عاید کرنے کی شدید مذمت کی اور گرجا گھروں کی ملکیتی اراضی کو ہتھیانے کے لیے قانون سازی کا سہارا لینے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس میں گرجاگھروں کی املاک بالخصوص ہوٹلوں اور دیگر مناف بخش جائیدادوں پر ٹیکس عاید کردیا تھا۔