.

الغوطہ میں ملبے سے نکالی گئی بچی درد ناک موت: ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے مشرقی الغوطہ میں اسد رجیم اورروسی فوج کی جانب سے برپا قیامت کے باعث المناک مناظر پر مشتمل واقعات منظرعام پرآ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں امدادی کارکنان کو بمباری سے تباہ مکان کے ملبے سے تلے سے ایک بچی کو نکالتے دکھایا گیا ہے۔ ملبے سے نکالے جانے کے کچھ ہی دیر بعد بچی فوری طبی امداد نہ ملنے کے باعث تڑپ تڑپ کر چل بسی۔

الحدث نیوز چینل کی رپورٹ کےمطابق سلامتی کونسل میں شام میں تیس روز کے لیے جنگ بندی کی متففہ قرارداد منظور ہونے کے باوجود سوموار کے روز اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ بدستور جاری رہا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے نو افراد سمیت 10 افراد مارے گئے۔

انسانی حقوق کی رصد گاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ دوما کے مقام پر اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری سے تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے نو افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک شہری حرستا شہر میں مارا گیا۔

آبزر ویٹری اور طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی بمباری سے مشرقی الغوطہ میں 14 شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جب کہ ایک تین سالہ بچہ شیفونیہ قصبے میں مارا گیا۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے شام میں جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام امدادی ادارے شام میں متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور زخمیوں کو وہاں سے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔