.

حزب اللہ کا اپنی جنگوں کے پرچار کے لیے وڈیو گیم کا سہارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ برس دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے جواب میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں لاکھوں لوگوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ توئیٹر کے ذریعے اپنے ردّ عمل کا اظہار کریں۔

اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں حزب اللہ نے گزشتہ ہفتے "الدفاع المقدس" (مقدّس دفاع) کے نام سے ایک 3D وڈیو گیم متعارف کرایا ہے جو شام میں اپنی جنگ کو "مذہبی" رنگ دینے کی ایک کاوش ہے۔

گیم کی ویب سائٹ پر متعارف کرائی جانے والی وڈیو واضح طور پر "یا زینب" کے نصب العین کی حامل ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے ان کاوشوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ شام میں جنگ پر مذہبی چھاپ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر شام میں لڑائی میں مصروف حزب اللہ ملیشیا کا ظاہری موقف ہے کہ یہ "مقامات مقدّسہ" کے دفاع کی جنگ ہے۔

یاد رہے کہ ابتدا میں حزب اللہ ملیشیا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور دیگر شخصیات سے متعلق مقامات کے دفاع کے نام پر شام گئی۔ بعد ازاں حسن نصر اللہ کی زبانی ملیشیا نے تسلیم کیا کہ وہ شامی حکومت کا دفاع کر رہی ہے۔

لبنان میں مقامی کرنسی میں چند ہزار کی قیمت کے اس گیم میں اُن معرکوں کی تصویر پیش کی گئی ہے جن میں حزب اللہ نے سیدہ زینب سے متعلق مقام اور پھر لبنانی شامی سرحد کے دفاع کے واسطے شرکت کی۔ اس دوران حزب اللہ اور داعش تنظیم کے درمیان شرم ناک اور باعث عار سمجھوتا طے پایا۔ اگست 2017ء کے اواخر میں اس سمجھوتے کے نتیجے میں داعش کے عناصر ایئرکنڈیشنڈ بسوں میں سوار ہو کر عراقی سرحد کے قریب واقع علاقے کی جانب بحفاظت نکل گئے تھے۔