.

حوثیوں کی طرف سے سعودی شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے : برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نائب مندوب جوناتھن ایلن نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔

پیر کے روز سلامتی کونسل میں "حوثیوں کو ایرانی اسلحے کی فراہمی" پر بحث کے لیے ہونے والے اجلاس کے دوران انہوں نے شہریوں پر میزائل حملوں کو ناقابل قبول امر قرار دیا۔ ایلن نے کہا کہ "یہ امن کو یقینی بنانے کے امکان کو سبوتاژ کر دے گا اور تنازع کو بڑھا کر شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے گا۔ ہمیں سلامتی کونسل میں ان حملوں کے خلاف ایک آواز ہو کر بات کرنا چاہیے۔ یہ مقصد اس قرار داد کے حق میں ووٹ دینے سے ہو گا جو ان حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کر رہی ہے"۔ ایلن کا اشارہ برطانیہ کی جناب سے پیش کی گئی قرارداد کی جانب تھا جس کی راہ میں روس نے رکاوٹ ڈال دی۔

برطانوی نائب مندوب کا مزید کہنا تھا کہ "برطانیہ اس امر پر گہری تشویش محسوس کر رہا ہے کہ ایران نے حوثی باغیوں کو کم مار کے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی براہ راست یا بالواسطہ فراہمی اور فروخت روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔ اس صورت حال کی روشنی میں ایران قرار داد 2216 کے پیرا 14 کی ترجمانی نہیں کر رہا"۔

دوسری جانب امریکا نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائلوں کا داغا جانا، یہ علاقائی تنازع بھڑکا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکی خاتون مندوب نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ایران کی طرف سے یمن میں حوثیوں کے لیے اسلحے کی اسمگلنگ ہو رہی ہے۔ ہیلی کے مطابق امریکا تہران کے تصرفات پر ایران کے احتساب کے لیے کوششوں سے نہ پہلے رکا ہے اور نہ آئندہ کسی صورت رکے گا۔ یمن کے حوالے سے برطانوی قرارداد کے راستے میں روس کی جانب سے رکاوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی خاتون مندوب کا کہنا تھا کہ "روس کا موقف مشرق وسطی میں انارکی اور شورش پھیلانے میں ایران کی سپورٹ کر رہا ہے"۔

روس کی جانب سے قرارداد کو ویٹو کر دیے جانے کے بعد نِکی ہیلی نے اپنے بیان میں روس پر الزام عائد کیا کہ وہ "دہشت گردی کے سر پرست ایرانی نظام" کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہیلی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکی سفیر جو ہونڈوراس کے سفر میں تھیں انہوں نے کہا کہ "اگر روس ایران کے خطرناک اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے برتاؤ کے خلاف کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے ویٹو کا حق استعمال کرے گا تو امریکا اور اس کے شراکت دار ایران کے خلاف ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جن کو روکنا روس کے لیے ممکن نہ ہوگا"۔