.

سعودی عرب : 7 مرتبہ موت سے بچنے والے نبیہ البراہیم کا مجلسِ شوری میں تقرّر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پیر کی شام جاری ہونے والے شاہی فرامین کے ذریعے کئی عسکری اور سرکاری عہدوں پر شخصیات کی برطرفی اور تقرر دیکھنے میں آیا۔ مذکورہ فرامین کے تحت مشرقی صوبے میں دہشت گردی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانے والے "نبیہ بن عبدالمحسن البراہیم" کو سعودی مجلس شوری کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ البراہیم کو دہشت گردوں کی جانب سے سات مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس وقت بھی امریکا کے شہر Rochester کے مایو کلینک میں زیر علاج ہیں۔ البراہیم مشرقی صوبے کے ضلعے قطیف کی بلدیاتی کونسل کے رکن کے طور پر کام کر رہے تھے۔

البراہیم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اعلی حکام نے قطیف ضلعے میں العوامیہ قصبے کے علاقے "مسورہ" کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے اس علاقے میں اپنے لیے پناہ گاہیں اور اڈے قائم کر لیے تھے۔ البراہیم کے مطابق اس فیصلے کے بعد ہی انہیں دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران البراہیم کے دفتر کو آگ لگائی گئی ، ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی جب کہ ان کے اہل خانہ گھر میں موجود تھے ، گھر کے سامنے کھڑی ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ، آدھی رات کو ان کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی اور اس کے علاوہ البراہیم کے والد کے فارم ہاوس پر حملہ کر کے اسے برباد کر دیا گیا۔

البراہیم نے مزید بتایا کہ 9 مارچ 2017ء کی شام کو انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش ناکام ہونے پر پھر انہیں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اللہ کے فضل سے وہ موت کے منہ میں جانے سے محفوظ رہے تاہم گھٹنے میں لگنے والی گولی نے ہڈی کو پیچیدہ طریقے سے توڑ دیا۔ اس زخم کے علاج کے لیے وہ ابھی تک امریکا میں علاج کروا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک ہفتے قبل نبیہ بن عبدالمحسن البراہیم کی دلیری اور اُن کارناموں کے متعلق رپورٹ شائع کی تھی جو انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ کے دوران انجام دیے۔