.

مصر : بچّوں کی فروخت کے گھناؤنے کاروبار کی تفصیلات منظر عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور العربیہ نیوز چینل پر مصر میں ویب سائٹ کے ذریعے بچوں کی فروخت کی خبر نشر ہونے کے ایک ہفتے بعد مصری حکام نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

مصر میں National Council for Childhood and Motherhood نے پیر کے روز "سوق العرب" نامی ویب سائٹ کے ذریعے بچوں کی فروخت کے گھناؤنے کاروبار کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے مشرق میں سکونت پذیر ایک شخص کی جانب سے مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے ایک بچّی کی فروخت کے واسطے موبائل فون کی سِم کا استعمال کیا گیا۔

اس حوالے سے سامنے آنے والے سنسنی خیز انکشاف کے مطابق بچّی کی فروخت کے لیے موبائل فون کی سِم استعمال کرنے والی شخصیت بچّی کی اپنی دادی ہے۔ اس نے اپنے بیٹے یعنی بچّی کے چچا سے مطالبہ کیا کہ وہ بچّی کے باپ کی مالی تنگی کے حالات کے پیشِ نظر اپنی بھتیجی کو "سوق العرب" ویب سائٹ کے ذریعے بیچ دے۔

استغاثہ کی جانب سے ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ جاری ہے جب کہ بچّی کی عمر جاننے اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس گھناؤنے کاروبار کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کی تھی جس نے مصر کے اندر دہشت پھیلا دی۔ مذکورہ ویب سائٹ پر ہر عمر کے بچوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر نومولود ، شیر خوار اور نامعلوم شناخت کے بچوں کی فروخت کے حوالے سے خصوص پیش کشیں بھی پوسٹ کی جاتی ہیں۔

بچوں کی جنس ، رنگت ، طبّی حالت ، بالوں اور آنکھوں کے رنگ اور دیگر جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر "قیمتوں" میں فرق پایا جاتا ہے۔

رامی الجبالی نامی ایک مصری نوجوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر اس کے صفحے کا دورہ کرنے والے بعض افراد نے آگاہ کیا کہ الشروق شہر کے ایک فلیٹ میں بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ فلیٹ کی عمارت کے باہر بہت سی مہنگی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ فلیٹ کے پڑوسیوں کو شک ہوا کہ فلیٹ میں مقیم خاندان بچوں کی تجارت کرتا ہے۔ اس گھرانے کو حراست میں لیا گیا تو یہ شک صحیح ثابت ہوا۔ رامی کے مطابق یہ اس گھناؤنے کاروبار کے طریقہ کار کے حوالے سے پہلی کڑی تھی۔ اس کاروبار سے متعلقہ ویب سائٹ کا مالک عرب شہریت کا حامل ہے اور وہ ہالینڈ میں رہتا ہے۔ رامی کا کہنا ہے کہ اس نے متعلقہ حکام کو انسانی تجارت کے اس مکروہ دھندے کے بارے میں آگاہ کیا۔

رامی الجبالی نے انکشاف کیا کہ بچوں کی حالت اور خصوصیات کے لحاظ سے ان کو 30 ہزار سے 2 لاکھ مصری پونڈز تک میں فروخت کیا جاتا ہے۔