.

الغوطہ الشرقیہ میں محفوظ گزر گاہوں کا انتظار ، ایک ہزار زخمی موت کے دہانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ الشرقیہ میں ایک ہزار کے قریب زخمی اور مریض ابتر حالت میں "محفوظ گزرگاہوں" کا انتظار کر رہے ہیں۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کو ان افراد کے موت کے منہ میں جانے کا اندیشہ ہے۔ بالخصوص منگل کے روز جنگ بندی کے خاتمے کے بعد جو اپنے آغاز کے بعد چند گھنٹوں سے زیادہ جاری نہ رہ سکی۔

گزشتہ روز روس کی جانب سے یومیہ پانچ گھنٹوں کی جنگ بندی کا مطالبہ بھی ناکام ہو گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق بشار حکومت کے جنگی طیاروں نے سکون کے مختصر عرصے کے بعد الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر پھر سے بم باری کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ادھر روس نے شامی اپوزیشن کو ملامت کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شہریوں کے نکلنے کی گزر گاہوں پر بم باری کر رہی ہے۔ الغوطہ میں سرگرم شامی اپوزیشن کے گروپ جیش الاسلام نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

بین الاقوامی صلیب احمر تنظیم کے مطابق اگرچہ الغوطہ میں پانچ گھنٹوں کی جنگ بندی کا مطالبہ ناکام ہو چکا ہے تاہم آنے والے دنوں میں یہ دورانیہ امدادی سامان پہنچانے کے لیے ناکافی ہو گا۔

شام میں صلیب احمر کی ترجمان انجی صدقی کا کہنا ہے کہ شہریوں کے لیے محفوظ گزر گاہوں کی فراہمی کا منصوبہ تمام متحارب فریقوں کی موافقت سے عمل میں آنا چاہیے تا کہ کوچ کے خواہش مند افراد امان کے ساتھ نکل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں باقی رہنے کا فیصلہ کرنے والے لوگوں کے لیے بھی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور امدادی تنظیمیں کی ان لوگوں تک رسائی کو ممکن بنایا جائے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "یہ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے مطالبے کے مطابق شام میں 30 روز کے لیے لڑائی روک دی جائے"۔

ادھر عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جساروِچ کا کہنا ہے کہ "اس وقت 1000 سے زیادہ مریض اور زخمی افراد شامی ہلالِ احمر کی فہرست میں شامل ہیں جن کو فوری انخلاء کی ضرورت ہے۔ تاہم اس وقت یا عنقریب ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے"۔

الغوطہ الشرقیہ میں دس روز کی شدید بم باری کے نتیجے میں 560 سے زیادہ شہری موت کی نیند سو چکے ہیں۔