.

ایران عراقی انتخابات میں اپنے ہمنوا عناصر کو کس طرح سپورٹ کرے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں انتخابات کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی سیاسی میدان میں انقسام کی صورت حال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران 12 مئی کو مقررہ انتخابات میں اپنے ہمنوا گروپوں کو جتانے کے لیے اپنا پورا رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی رسوخ میں اضافہ بغداد حکومت کی قیادت کرنے والی شیعہ قوتوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بڑا کردار ادا کرے گا۔ بالخصوص سنی اکثریت کے علاقوں سے داعش تنظیم کے نکل جانے کے بعد کیوں کہ ان علاقوں کو بے گھر ہونے اور جبری ہجرت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اس وقت عراق میں سُنّی آبادی کو کئی مسائل کا سامنا ہے جن کے سبب انتخابات میں سنّیوں کی مؤثر شرکت کی راہ میں رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں۔ سنیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس وقت بے گھر افراد کے کیمپوں میں ہے اور ان کے پاس ووٹرز لسٹ میں اندراج کے لیے مطلوبہ کاغذات اور دستاویزات بھی نہیں ہیں۔

ان وجوہات کی بنا پر یہ احساس زور پکڑتا جا رہا ہے کہ سنّی آبادی منصفانہ طور پر اپنا رائے شماری کا حق استعمال نہیں کر سکے گی۔ اس طرح عالمی برادری کا مقصد پورا ہونا خطرے میں پڑ جائے گا جو یہ چاہتی ہے کہ عراق میں آئندہ حکومت زیادہ جامع ترجمانی کی حامل ہو تا کہ ایک یکجا ریاست کو برقرار رکھا جا سکے اور "داعش" تنظیم جیسا المیہ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔

سنیوں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے ذریعے اُن کے علاقوں میں شیعوں کا رسوخ پروان چڑھے گا۔ بالخصوص اگر تہران نواز شیعہ گروپوں کے حمایت یافتہ سنی امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی۔

دوسری جانب ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی کے 17 فروری کو بغداد میں دیے گئے بیان نے بہت سی عراق قوتوں کو چراغ پا کر دیا۔ ولایتی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک آزاد خیال اور کمیونسٹ عناصر کو عراق پر حکم رانی کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔

اس کے ردّعمل میں "عراقی نیشنل فورسز" کے نام سے قائم سیاسی اتحاد نے جمعے کے روز اپنے بیان میں ولایتی کے موقف کو عراقی عوام کے حق خود ارادیت کی واضح اور براہ راست اہانت قرار دیا۔ اتحاد کے مطابق ایرانی عہدے داران کی جانب سے وقتا فوقتا ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جن کے ذریعے عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن حسن رحیم پور ازغدی ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ "عراق میں صدام حسین کو پھانسی امریکیوں نے نہیں بلکہ ہماری جماعت نے دی"۔

عراق کے امور سے متعلق مبصرین کا کہنا ہے کہ ولایتی کا بیان اُس انتخابی اتحاد کے خلاف دیا گیا جو الصدری گروپ نے سِول بلاک اور کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ قائم کیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد تہران نواز شیعہ اتحاد کی پوزیشن کو کمزور کرنا ہے۔

مقتدی الصدر بغداد حکومت میں ایران نواز شیعہ گروپوں کے مخالف موقف کے حامل ہیں۔ ان کے پیروکار کئی مرتبہ ایران کے خلاف نعرے لگا کر عراق میں ایرانی پھیلاؤ کی پالیسی کی بھرپور مذمت کر چکے ہیں۔

ادھر عراقی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل رائد فہمی نے علی اکبر ولایتی کے بیان کو عراق کے معاملے میں مداخلت اور عراقی آئین کے متضاد شمار کیا ہے۔

سِول بلاک سے تعلق رکھنے والے عراقی رکن پارلیمنٹ فائق الشیخ علی کے مطابق ولایتی کا بیان عراقیوں کی تحقیر اور توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "عراقی عوام خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ولایتی یا اور کسی ایرانی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عراق کے معاملے میں مداخلت کرے"۔

نیشنل الائنس کے رہ نما اور قانون داں عراقی رکن پارلیمنٹ عبدالکریم عبطان کی جانب سے سخت ترین ردّ عمل سامنے آیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ہم ولایتی یا اس کے علاوہ کسی کے نوکر نہیں ہیں۔ ہم عراقی ہیں۔ اگر ولایتی کا ایک یا دو عراقیوں پر اختیار ہے تو یہ اختیار باقی نہیں رہے گا۔ البتہ اگر اس کا رسوخ عراقیوں کے خلاف ہے تو ہم ولایتی یا اس کے سوا کسی کو بھی عراق کے معاملے میں مداخلت کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے"۔

ولایتی نے اپنے دورے میں ایران کے مقرّب شیعہ رہ نماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان میں سابق وزیراعظم نوری المالکی، الحکمہ بلاک کے سربراہ عمار الحکیم اور بدر تنظیم کے سربراہ ہادی العامری وغیرہ شامل ہیں۔

ایران کو خوف ہے کہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج ایسی عراقی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں جو ایران سے کہیں زیادہ دور ہو۔ اس لیے کہ تہران نواز عراقی سیاسی جماعتیں عراقی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکی ہیں اور کئی برسوں سے ملک کو درپیش اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کو حل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔