.

سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلفون پر ایران کی شر انگیز سرگرمیوں پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس کے ایک اعلان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلفون پر رابطے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایران کی سرگرمیوں پر بات چیت کی جو خطّے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ دونوں شخصیات نے گفتگو میں کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جن میں انسداد دہشت گردی ، سکیورٹی اور اقتصادی معاملات کے علاوہ دو طرفہ دل چسپی کے امور شامل ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کے ساتھ بھی ٹیلیفون پر رابطہ کر کے ایران کی سرگرمیوں اور انسداد دہشت گردی جیسے امور پر بات چیت کی۔

امریکی صدر نے سعودی عرب اور ابوظبی کی ولی عہدوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایسے طریقوں پر روشنی ڈالی جن کے ذریعے خلیجی ممالک کے لیے خطے کو غیر مستحکم کرنے والی ایرانی سرگرمیوں پر روک لگانے کے علاوہ دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو شکست سے دوچار کرنا بہتر طور پر ممکن ہو گا۔

امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی اپنے مشترکہ بیان میں اس امر پر ایران کی مذمت کر چکے ہیں کہ وہ یمن میں باغیوں کے لیے اسلحہ برآمد کرنے پر عائد پابندی کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں بالخصوص 2015ء میں یمن سے متعلق جاری قرارداد پر عمل نہیں کر رہا۔ چاروں ممالک نے تہران کو مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ بیان میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان سرگرمیوں کو روک دے جو خطّے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جوزف ووٹیل نے حوثیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں پر امریکا کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ باب المندب میں جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تعاون عمل میں آئے گا۔ امریکی کمانڈر نے ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا کہ ایران کی شرانگیز سرگرمیاں خطّے کے لیے طویل المدّت خطرہ ہیں۔