.

حوثیوں کی یمنی طلبہ پرعسکری کے بعد فرقہ ورانہ ثقافتی یلغار

نصاب تعلیم میں ایران اور حزب اللہ کے کردار کی تعریف وتوصیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغی نہ صرف بندوق سے اپنی قوم کے خلاف لڑ رہے ہیں بلکہ انھوں نے قوم کی نئی نسل کے ذہنوں میں فرقہ واریت کے بیج بونے اور ان میں ایران کے لیے ہمدردی کےجذبات پیدا کرنے کے کی غرض سے ثقافتی اور تعلیمی یلغار بھی شروع کر رکھی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے ملک کی سب سے بڑی دانش گاہ ’جامعہ صنعاء‘ کے نصاب تعلیم میں جوہری تبدیلیاں کی ہیں۔ ترمیم شدہ نصاب میں جہاں عرب ممالک کے خلاف نفرت پر مبنی مواد شامل ہے وہیں ایران اورحزب اللہ کی تعریف توصیف پر مبنی مضامین شامل ہے۔

صنعاء یونیورسٹی کے طلبہ اور اکیڈمک ذرائع کے مطابق حوثیوں کی طرف سے قائم کردہ تدریسی کمیٹی نے نصاب تعلیم میں غیرمعمولی ردو بدل کیا ہے۔ اسلامی ثقافت سے متعلق نصاب کی کتب میں ’عرب اسرائیل کشمکش کا بھی ذکر ہے۔ اس نصاب کی تدریس جامعہ صنعاء کے تمام کالجوں میںا لازمی قرار دی گئی ہے۔

اسلامی ثقافت سے متعلق نصاب میں ایران، شام کے اسد رجیم اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی تعریف بیان کی گئی اور انھیں خطے اور مسلمانوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے نصاب تعلیم میں تبدیلی اور من پسند مواد کی شمولیت کو نصابی دراندازی قرار دیا گیا ہے۔ ایک سینیر ماہر تعلیم نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ حوثیوں کی طرف سے نصاب تعلیم میں مرضی کا مواد شامل کرنا طلبہ کے ذہنوں میں بگاڑ پیدا کرنے کی سازش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان کشمکش موجود ہے مگر حوثیوں نے اسے فرقہ وارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ حوثیوں کے تیار کردہ نصاب تعلیم کا مقصد نفرت کو ہوا دینا اور ایران وحزب اللہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانا ہے۔

ترمیم شدہ نصاب تعلیم میں 13 حوثی مولفین کےنام شامل ہیں۔ جن میں سر فہرست یحییٰ ابو عواضہ ہیں۔ اس کے علاوہ ملازم حسین حوثی بھی ایک سرکردہ حوثی لیڈر ہیں جن کی نگرانی میں یہ نصاب تیار کیا گیا ہے۔