سعودیہ کا فلسطین میں کینسر کے علاج کے لیے جدید آلات کا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے فلسطین کے ایک اسپتال کو کینسر کے لیزر علاج کے لیے 45 لاکھ ڈالر مالیت کےجدید ترین آلات اور میشنری کا عطیہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے ترقیاتی فنڈ کی طرف سے ’آگسٹا ویکٹوریا‘ اسپتال کو سرطان کے علاج کے لیے دو جدید نظام فراہم کیے ہیں جن کی مالیت ساڑھے چار ملین ڈالر ہے۔

فلسطینی اسپتال کےایگٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید نمور نے سعودی عرب کی طرف سے کینسر کے علاج کے جدید نظام ملنے پر سعودی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جدید لیزر علاج کے آلات اور میشنوں کی مدد سے فلسطین میں کینسر کے مرض کو کنٹرول کرنے اور مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

انہوں نے سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے اس عطیے کو فلسطینی قوم کے لیے گراں قدر تحفہ قرار دیا اور کہا کہ اس گراں قیمت میشنری کا عطیہ کرنا سعودی عرب کی فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاص کا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر نمور نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے جدید آلات سے سرطانوی پھوڑوں کو لیزر کے ذریعے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

’العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے فلسطینی اسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے ملنے والا یہ جدید نظام علاج مقبوضہ بیت المقدس، غرب اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقوں میں اپنی نوعیت کا پہلا سسٹم ہے۔ اگر سعودی عرب کی طرف سے انہیں یہ عطیہ نہ دیا جاتا تو فلسطین میں لیزر کے ذریعے علاج کے منتظر مریضوں کو یا تو کسی ایسےعلاج کا انتظار کرنا پڑتا یا بیرون یا موت سے ہم کنار ہونا پڑتا۔

درایں اثنا فلسطین میں لوتھری یونین کے مندوب مارک براؤن نے ایک آگسٹا ویکٹوریا اسپتال کو سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ آلات کو بہترین تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیزر کے ذریعے کینسر کے علاج کا یہ نظام اسپتالوں میں علاج کی ایک نئی سہولت ہے۔ اس کے نتیجے میں کیسنر کے مرض کا شکار سیکڑوں افراد کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ المطلع اسپتال ورم کے علاج اورکیسنر بالخصوص خون کے کینسر کے علاج کا فلسطین میں واحد اسپتال ہے۔ اس اسپتال میں القدس، غرب اردن اور غزہ کی پٹی کے کینسر کے مریضوں کا علاج کر ایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں