شام میں 40 سال سے مقیم ضعیف العمر پاکستانی جوڑا مشرقی الغوطہ سے انخلا پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج کے محاصرے کا شکار صوبے مشرقی الغوطہ میں 40 سال سے زیادہ عرصے تک مقیم رہنے والا پاکستانی جوڑا بالآخر وہاں سے انخلا پر مجبور ہوگیا ہے اور اس پاکستانی جوڑے کو انجمن ہلال احمر نے بدھ کو ایک محفوظ راستے سے وہاں سے نکال لیا ہے۔

کمیت ایجنسی کے مطابق مشرقی الغوطہ سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام نے 72 سالہ پاکستانی محمد اکرم اور ان کی 62 سالہ اہلیہ صغراں (صغریٰ) بی بی کی تصاویر جاری کی ہیں۔انھیں ہلال احمر کی گاڑی پر مشرقی الغوطہ سے دمشق منتقل کیا گیا ہے۔شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کی کوششوں کے نتیجے میں ان کا انخلا ممکن ہوسکا ہے۔

یہ دونوں ضعیف العمر میاں بیوی مشرقی الغوطہ کے گذشتہ پانچ سال سے جاری محاصرے کے باوجود الدوما میں مقیم رہے ہیں ۔شامی فوج نے جب باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے کا محاصرہ کیا تھا تو اس وقت اس کی آبادی بیس لاکھ سے زیاد ہ تھی لیکن آج صرف چار لاکھ کے لگ بھگ لوگ وہاں رہ گئے ہیں۔

محمد اکرم اور ان کی اہلیہ 1975ء میں اسلام آباد سے بہتر روزگار کے سلسلے میں دمشق گئے تھے اور اس کے بعد سے وہ شام ہی کے ہو کر رہ گئے اور مشرقی الغوطہ ایک قصبے میں مقیم چلے آرہے تھے۔

انھوں نے دسمبر 2017ء میں حلب ٹو ڈے ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھیں بہت مشکل سے کھانے پینے کا سامان مل پا رہا ہے اور خوراک کا حصول ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔انھوں نے بتایا تھا کہ وہ دانے پیش کر بنائی گئی روٹی ، بھینس کے دودھ اور انڈوں پر گزارہ کررہے ہیں۔

اس پاکستانی نے مزید بتایا تھا کہ ان کی بیوی کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور انھوں نے ایک شامی عورت سے شادی کرلی تھی،اس سے چھے بچے پیدا ہوئے تھے۔ان کی اس شامی بیوی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ان کے دو بیٹے ، تین بیٹیاں اور بارہ پوتے پوتیاں دوما ہی میں مقیم رہ گئے ہیں۔ محمد اکرم نے انھیں پیچھے چھوڑتے ہوئے ان کے لیے دعا کی ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔

محمود فاضل اکرم
محمود فاضل اکرم
صغریٰ (صغراں) بی بی
صغریٰ (صغراں) بی بی
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں