قطری اسٹیڈیم میں برطانوی مزدور کی حادثاتی موت کا معمہ حل

کرین میں ناکافی حفاظتی انتظامات زاک کوکس کی موت کا موجب بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانوی میں پوسٹ مارٹم حکام نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مزدور کی خلیجی ریاست قطرکے ایک اسٹیڈیم کی تیاری کے دوران ہلاکت کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی جاں بحق ہونے والے مزدور کو انتظامیہ کی طرف سے اپنی جان کے تحفظ کے لیےتمام ضروری حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

خایل رہے کہ 40 سالہ زاک کوکس جنوری 2017ء کو 40 میٹر بلندی سے گر کرجاں بحق ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ دوحہ کے خلیفہ اسٹیڈیم کی تیاری کےدوران اس وقت پیش آیا جب کوکس اپنے کھڑے ہونے کے لیے بنائے گئے اسٹینڈ کے ٹوٹنے سے زمین پر جا گرا تھا۔ کرین کے ایک باز میں بنے اسٹینڈ کے غیرمعیاری ہونے کےباعث یہ واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کوکس کی موت واقع ہوئی۔

اخبار’گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والا یہ مزدور دوحہ میں سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے سلسلے میں ہونے والی تیاریوں کےکام میں مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والا اکلوتا مزدو تھا۔

برطانوی پوسٹ مارٹم ڈاکٹر فیرونکا ھامیلٹن نے ڈیلی نے بتایاکہ بیشتر منتظمین جانتے کے تھے کہ جس اسٹینڈ پر کھڑے ہو کر زاک کوکس کام کررہا ہے وہ مضبوط نہیں اور کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ مزدوروں اور کام کرنے والے پورے عملے کو اس کے بارے میں آگاہ کرتے اور ان کی جانوں کو تحفظ دینے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کرتے مگرانہوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے کھڑے ہونے کے لیے کرین کےبازو میں بنایا گیا یہ اسٹینڈ پیشہ ورانہ انداز میں تیار نہیں کیا بلکہ عارضی تھا اور اسے حد درجہ خطرناک قرار دیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں برطانوی ڈاکٹر نے کہا کہ کوکس کی موت کئی واقعات کا نتیجہ ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ٹھیکیدار جلد بازی میں اسٹیڈیم کی چھت تیار کرانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے کرینوں کے بازوؤں کااستعمال کیاجانا تھا۔ ان میں سب سے اہم جگہ فالتو سامان رکھنے کی ٹوکری تھی۔

تحقیقی دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ زاک کوکس کے حادثے کے دوران حادثے کی وجہ بننے والی کرین کا بازو جدید حفاظتی انتظامات کے مطابق نہیں تھا اور اسے مزدوروں کی صحت اور سلامتی کو سامنے رکھ کر نہیں بنایاگیا تھا۔

جاں بحق ہونے والے مزدور کے ایک ساتھی جون جونسن نے بتایا کہ وہ کرین کے حفاظتی انتظامات سے بالکل بھی متاثر نہیں بلکہ انہیں ہر وقت اس کے ایک باز کے ٹوٹ جانے کا خوف لاحق رہتا تھا۔

فوکس کی حادثاتی موت کے بعد قطری حکام نے اس کے ساتھ گرام فانس کو لا پرواہی برتنے کے الزام میں حراست میں لیا اور اسے تین سال تک جیل میں رکھنے کی سزا دی گئی ہے۔ فینس کو ابھی ٹرائل کا انتظار ہے اور سزا کےفیصلے کے بعد وہ اپیل کی کوشش کررہا۔ تاہم 10 ماہ کے بعد اسے جنوبی افریقا جانے کی اجازت دے دی گئی جب کہ آخر میں اسے کوکس کی موت میں کسی قسم کا قصور وار نہ ہونے پر بری کردیا گیا۔ تاہم دوران حراست گذرے وقت کو یاد کرکے فانس نے بہت صدمے کا اظہار کیا اور اسے’جہنم‘ قرار دیا۔

جرمن کمپنی کی جو کرین حادثے کا موجب بنی تھی اس کے ایک عہدیدار نے کمپنی کی سطح پر ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کےباوجود یہ اعتراف کیا کہ کوکس کی موت نامناسب حفاظتی اقدامات کے باعث ہوئی تھی۔

فانس کو حادثے کے چند گھنٹے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے استفسار کیا کہ کیا مجھے اس لیے حراست میں لے لیا گیا کہ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور میں نے اسے 40 میٹر کی بلندی سے نیچے گرتے دیکھا ہے۔ میں نے اس کی جان بچانے کی پوری کوشش کی مگر اس دوران میرے دونوں ہاتھ بھی زخمی ہوگئے اسے پھر بھی نہ بچا سکا۔

فانس کے اہل خانہ کی طرف سے مقرر کردہ وکیل اسٹیوارٹ لوبشر نے کہا کہ دوحہ حکومت کی طرف سے داخلی سطح پر تیار کردہ رپورٹ کو سامنے نہیں لایا گیا کیونکہ اس رپورٹ میں کوکس کی موت کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ کے سرپر عاید ہوتی تھی۔ جب کہ متعلقہ کمپنی ’فائیر‘ کی طرف سے کہا گیا کہ رپورٹ باضابطہ نہیں تھی اور اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں