.

عفرین: 8 ترک فوجی ہلاک اور 13 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ شمالی شام کے علاقے عفرین میں کُردوں کے خلاف جاری آپریشن "غصن الزیتون" میں اُس کے 8 فوجی ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔

عفرین میں فوجی آپریشن کے شروع کیے جانے کے بعد سے ترک فوج کی ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اس طرح "غصن الزيتون" آپریشن میں مجموعی طور پر کم از کم 40 ترک فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ان کے علاوہ آپریشن میں اب تک 200 سے زیادہ انقرہ کے ہمنوا شامی جنگجو اور کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے 209 ارکان بھی مارے گئے ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق آپریشن کے دوران 112 شامی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ ترکی اس امر کی تردید کرتا ہے۔

ترکی نے رواں سال 20 جنوری سے "غصن الزیتون" آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس کا مقصد امریکا کے حمایت یافتہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو نشانہ بنانا ہے۔ انقرہ مذکورہ کرد یونٹس کو ایک دہشت گرد جماعت شمار کرتا ہے جو ترکی میں تین دہائیوں سے بغاوت میں مصروف کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ترکی کی فوج نے 115 تزویراتی مقامات اور 87 دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس امر نے کرد جنگجوؤں کو ترکی کی سرحد کے متوازی علاقے سے پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔