’میں زندہ ہوں ‘محصورین الغوطہ کی دُنیا تک اپنی فریاد پہنچانے کی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے مصیبت زدہ علاقے مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں نے قیامت برپا کر کررکھی ہے جہاں ملبے کا ڈھیر، اس کے نیچے دبے زخمی اور اور مہلوکین یا آہ وبکا کرتے نہتے لوگ ہیں۔ مشرقی الغوطہ میں وحشیانہ بمباری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دلخراش واقعات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

پانچ سال سے محصور الغوطہ کے عوام اور بچوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ’میں زندہ ہوں‘ کے عنوان سے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد جنگ سے تباہ حال محصورین الغوطہ کی آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔

میں زندہ ہوں کے عنوان سے سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں اسدی فوج کی بمباری سے ہونے والی تباہی اور انسانوں پر مظالم کی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کی ہیں۔ اس مہم کو نہ صرف اہل شام بلکہ پوری دنیا میں غیرمعمولی پذیرائی مل رہی ہے۔

گو کہ مشرقی الغوطہ میں قیامت برپا ہے۔ کوئی گلی، محلہ، قصبہ اور مکان ایسا نہیں جو قیامت خیز تباہی سے بچا ہو مگر اس کے باوجود محصورین الغوطہ دنیا کو یہ پیغام دے رہےہیں کہ وہ زندہ اور پائندہ ہیں۔

محصورین الغوطہ میں امید اور زندگی اب بھی موجود ہے۔ مشرقی الغوطہ میں پیدل اور موٹر سائیکلوں پر چلنے والے مظلوم شہری’میں زندہ ہوں‘ کی پکار سے پوری دنیا کو یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ الغوطہ کے عوام نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا۔ گو کہ اسد رجیم نے ان کا سب کچھ تباہ وبرباد کر دیا۔ پورے پورے خاندان لقمہ اجل بنا دیے مگر اس کے علی الرغم اہالیان الغوطہ نے جینے کی امید ترک نہیں کی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اس مہم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔ الغوطہ کے اندر اور اس کے باہر بڑے پیمانے پر وہاں کے تباہ کن مناظر کی ترجمانی کرنے والی تصاویر پوسٹ اور شیئر کی جا رہی ہیں۔

ان تصاویر کے ساتھ ساتھ سماجی کارکنان نے محصورین الغوطہ کی حمایت کے لیے دنیا سے حرکت میں آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ مہم ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب 19 فروی 28 فروری کے درمیان اسدی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں اسدی فوج نے 127بچوں، 95 خواتین سمیت 666 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں