.

اسدی فوج کی مشرقی الغوطہ میں پیش قدمی کے بعد سیکڑوں شہری راہِ فرار اختیار کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے روس کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کی تباہ کن بمباری کے بعد سیکڑوں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کررہے ہیں۔

شام کی سرکاری فورسز محاصرہ زدہ الغوطہ الشرقیہ کے مشرق کی جانب سے آگے بڑھ رہی ہیں اور وہ اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔صدر بشارالاسد کی مد مقابل حزب اختلاف کے ایک حامی ٹیلی ویژن چینل اورینٹ نے اطلاع دی ہے کہ اسد نواز فورسز کی پیش قدمی کے بعد علاقے کے مکین بڑے پیمانے پر در بدر ہورہے ہیں اور مشرقی الغوطہ کے وسط کی جانب پناہ کی تلاش میں جانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اسدی فوج مشرقی الغوطہ میں واقع قصبے مسرابا پر بمباری کررہی ہے اور وہاں سے ایک تخمینے کے مطابق تین سے چار سو خاندان گھر بار چھوڑ کر دورسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

اسدی فوج نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں مشرقی الغوطہ پر تباہ کن فضائی بمباری اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے شام بھر میں 30 دن کی جنگ بندی کے لیے قرار داد منظور کی تھی لیکن اس کی کسی نے پاسداری نہیں کی ہے ۔

روس نے روزانہ پانچ گھنٹے کے لیے جنگ بندی کے وقفے کا اعلان کیا تھا تاکہ مشرقی الغوطہ کے مختلف قصبوں اور دیہات میں جنگ سے متاثرہ افراد تک انسانی امداد پہنچائی جاسکے اور زخمیوں اور مریضوں کو وہاں سے نکالا جاسکے ۔تاہم ابھی تک کوئی امدادی سامان اس جنگ زدہ علاقے میں نہیں پہنچایا جاسکا ہے اور امریکا کے محکمہ خارجہ نے روس کے اس منصوبے کو ایک مذاق قرار دیا ہے۔

شام میں اقوام متحدہ کے ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ عالمی ادارے اور دوسری امدادی ایجنسیوں کا جانیں بچانے والی ادویہ اور اشیاء لے کر آنے والا ایک امدادی قافلہ مشرقی الغوطہ میں داخل نہیں ہوسکا ہے کیونکہ اس کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی ہے ۔مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے امدادی قافلے کی محفوظ راستے سے جانے کے لیے حتمی اجازت نہیں دی ہے۔

40 ٹرکوں پر مشتمل یہ قافلہ دمشق کے نواح میں واقع شہر دوما میں محصور شہریوں کی امداد کے لیے بھیجا گیا تھا۔اس شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں کم سے کم چار لاکھ افراد کو فوری خوراک ، ادویہ اور دوسری اشیائے ضروریہ کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق اس سال کے آغاز کے بعد سے صرف ایک چھوٹے قافلے کو فروری کے وسط میں مشرقی الغوطہ میں داخل ہونے کی اجازت ملی تھی اور اس قافلے کے ذریعے 72 سو افراد کے لیے سامان بھیجا گیا تھا۔

ایک مغربی سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ مشرقی الغوطہ کی صورت حال بھی 2016ء کے آخر میں مشرقی حلب کی صورت حال جیسی ہے۔وہاں بھی شامی حکومت نے امدادی قافلوں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی اور باغی گروپ عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے شامی حکومت سے کڑی شرائط پر جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے ۔ پھر مشرقی حلب پر شامی فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔اب مشرقی الغوطہ کے بارے میں بھی بڑی باتیں کی جارہی ہیں لیکن عملی اقدام کوئی نہیں کیا جارہا ہے۔