.

اسرائیلی وزیراعظم امریکا کے دورے پر، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

میزبان صدر کو مقبوضہ القدس میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکا کے دورے پر ہیں جہاں وہ سوموار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے دورے پر روانہ ہونے سے قبل کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کو مئی میں مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دیں گے۔انھوں نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں یقینی طور پر ان سے اس امکان پر بات چیت کروں گا‘‘۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اس موقع پر صدر ٹرمپ کو دعوت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ’’میں یروشلیم ( القدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور ہمارے یوم ِ آزادی پر امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے تاریخی فیصلے پر ان (صدر ٹرمپ ) کا شکر گزار ہوں‘‘۔

امریکا نے اسرائیل کے ستر ویں یوم آزادی کے موقع پر 14 مئی کو اپنا سفار ت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ فلسطینی اس دن یوم نکبہ مناتے ہیں ۔اسرائیل کے قیام کے وقت مسلح یہودی جتھوں نے ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے آبائی گھروں سے زبردستی بے دخل کردیا تھا اور ان کی جائیدادیں چھین کر انھیں مہاجرت کی زندگی پر مجبور کردیا تھا۔

اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع شہر قرار دیتے ہیں۔البتہ بعض ممالک کے قونصل خانے بیت المقدس میں قائم ہیں۔ان میں امریکا کا قونصل خانہ بھی شامل ہے۔

امریکا کا سفارت خانہ مقبوضہ القدس میں امریکی قونصل خانے کی اسی عمارت میں عارضی طور پر منتقل کیا جائے گا اور پھر اس کو مستقل عمارت کی تلاش کے بعد وہاں منتقل کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو ایک نشری تقریر میں مسلم اور عرب دنیا، عالمی لیڈروں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے اس فیصلے کی فلسطینی اور ان کی حمایتی مسلم دنیا اور عالمی برادری نے سخت مخالفت کی ہے اور اس کے خلاف احتجاج کے طور پر فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے موقع پر ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔

یادرہے اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کے مشرقی حصے کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصفیہ طلب مسائل میں مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت پر تنازع سب سے نمایاں ہے۔اقوام متحدہ اور یورپی ممالک کا یہ موقف رہا ہے کہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔