.

الغوطہ الشرقیہ میں شامی فوج کی پیش قدمی، جنگ بندی کی کوششیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں الغوطہ الشرقیہ کا علاقہ کئی روز سے میزائل اور حملوں کی زد میں ہے۔ دوسری جانب فرانس اور اقوام متحدہ ایک مرتبہ پھر اُس جنگ بندی کو ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو شامی حکومت کی طرف سے برباد کر دی گئی۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے ہفتے کے روز بتایا کہ شامی حکومت کی فوج نے الغوطہ الشرقیہ کے 10% حصّے کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ یہ پیش رفت کئی روز سے جاری زمینی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے۔

سیاسی جانب فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گویٹرس نے الغوطہ کی صورت حال پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔ پیرس میں ایلیزے پیلس کے مطابق اقوام متحدہ ابھی تک دمشق کے قریب اس محصور علاقے میں امداد پہنچانے پر قادر نہیں۔

صدارتی محل کے بیان کے مطابق ماکروں اور گویٹرس نے ایک بار پھر شامی حکومت اور اس کے حلیفوں پر زور دیا ہے کہ وہ قرارداد 2401 (جو شام میں فائربندی کا تقاضہ کرتی ہے) پر بالخصوص انسانی امدادات کے پہنچنے سے متعلق امر پر عمل درامد کو یقینی بنائیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کے ذریعے اب محصور آبادی کے لیے ضروری طبی اور غذائی امداد پہنچانے دینا چاہیے۔

امانوئل ماکروں اتوار کے روز اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ شام کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران کو بشار الاسد کی حکومت کا ایک نمایاں ترین حلیف شمار کیا جاتا ہے۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے الغوطہ الشرقیہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے واسطے دباؤ کے طریقہ کار کی تلاش میں ہفتے کے روز بھی ٹیلیفونک رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ لودریاں نے اپنے سعودی ، امریکی اور ترک ہم منصبوں عادل الجبیر، ریکس ٹیلرسن اور مولود چاوش اوگلو سے مشاورت کی۔ لودریاں جرمن، برطانوی اور اردنی وزراء خارجہ سے بھی رابطہ کریں گے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ بات چیت کا محور (30 روز کی جنگ بندی کے حوالے سے) سلامتی کونسل کی قرارداد کی پیروی ہے جس کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔

فرانس، سعودی عرب، امریکا، برطانیہ اور اردن نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں شام کے حوالے سے امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے واسطے ایک "چھوٹا گروپ" تشکیل دیا ہے۔ مغربی ممالک روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے 24 فروری کو جنگ بندی کی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم وہ زمینی طور پر شامی حکومت کو سپورٹ کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2401 کی منظوری کے ایک ہفتے بعد بھی اس پر عمل درامد نہیں ہو سکا ہے جب کہ شامی حکومت اور اس کے حلیفوں نے اپوزیشن گروپوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 19 فروری سے رواں ماہ 3 مارچ تک الغوطہ الشرقیہ پر شامی حکومت کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 718 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات الغوطہ میں شہری دفاع کے ذرائع نے بتائی۔

اس تعداد میں ہفتے کے روز لقمہ اجل بننے والے 21 افراد بھی شامل ہیں۔ گذشتہ روز شامی حکومت کی فوج نے دوما اور حرستا شہروں کے علاوہ المحمدیہ، الاشعری، حموریہ اور مسرابا کے قصبوں کو بھی زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ کارروائی میں شہری دفاع کے 4 کارکن بھی زخمی ہوئے۔

الغوطہ الشرقیہ میں 4 لاکھ کے قریب شہری 2012ء کے اواخر سے شامی حکومت کی فوج کے ہاتھوں محصور ہیں۔ اس دوران غذائی مواد اور طبی ضروریات کی اشیاء کو بھی داخل ہونے سے روک دیا گیا۔