.

بیلسٹک میزائل یا نئی پابندیاں، فرانس نے ایران کو آپشن دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں کا کہنا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے اندیشوں کو دور کرے نہیں تو دوسری صورت میں اسے نئی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

پیر کو اپنے ایران کے دورے سے قبل فرانسیسی اخبار Le Journal du Dimanche کو دیے گئے بیان میں لودریاں کا کہنا تھا کہ "ایسے بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام موجود ہے جو ہزاروں کلو میٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور ایران کی سرحدوں کے دفاع کی ضرورت سے تجاوز بھی ہے"۔

انہوں نے باور کرایا کہ اگر اس معاملے پر فوری طور پر روک نہ لگائی گئی تو یہ ریاست نئی پابندیوں کی زد میں ہو گی۔

ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائلوں سے دست بردار نہیں ہو گا۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل مسعودی جزائری نے ہفتے کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِرنا" کو بتایا کہ ان کا ملک میزائل پروگرام پر صرف اس شرط پر بات چیت کے لیے تیار ہوگا کہ مغرب بھی اپنے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تباہ کر دے۔

جزائری نے کہا کہ امریکا اور اس کے حواریوں نے ایران کے میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے کئی طرح کی پابندیاں عاید کیں مگر ان پابندیوں کے نتیجے میں ہماری امنگوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا بلکہ ایران کے میزائل پروگرام میں مزید بہتری آئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2015ء کو مغربی ملکوں اور ایران کے درمیان طے پائے معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے میں کئی سقم اور کمزوریاں موجود ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔