.

سعودی وزیر تجارت نے سب کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تجارت اور سرمایہ کاری کے سعودی وزیر ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی نے زندگی میں ایک مرحلے پر اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ زندگی میں کسی مرحلے پر ناکام ہونا یا کسی خیال کو منطبق کرنے میں ناکام ہونا کوئی عیب نہیں تاہم معیوب بات غلطی کا بارہا دہرایا جانا ہے۔

سعودی وزیر کی یہ گفتگو ہفتے کے روز مملکت میں اُبھرتی ہوئی کمپنیوں کے mit فورم کے مقابلے میں کامیاب ہونے والوں کے ناموں کے اعلان کی تقریب کے دوران سامنے آئی۔

القصبی کا کہنا تھا کہ فلاحی کام میں جذبات عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ سعودی وزیر کے مطابق فلاحی اداروں کی بھی گورننس ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ القصبی نے 1985ء میں امریکا کی میزوری یونی ورسٹی سے انجینئرنگ ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس سے قبل امریکا کی ہی بیرکلے یونی ورسٹی سے 1982ء میں سول انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے جولائی 2014ء سے ولی عہد کے دفتر میں مشیر کے طور پر کام کیا۔ اس سے قبل 2011ء سے 2014ء تک ولی عہد کے نجی امور کے سربراہ رہے۔ سال 2002ء سے 2013ء تک سلطان بن عبدالعزیز چیریٹی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ انہوں نے 1998ء سے 2002ء تک جدہ کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سکریٹری جنرل کے طور پر فرائض انجام دیے۔ اس کے علاوہ القصبی 1987ء سے 1998ء تک کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی کے انڈسٹریل انجینئرنگ کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تدریس سے وابستہ رہے۔

ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی نے مختلف سرکاری عہدوں پر انتظامی امور کی باگ ڈور بھی سنبھالی۔ انہیں 1436 ھ میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے سماجی امور کا وزیر مقرر کیا گیا تھا۔