.

عراقی حزب اللہ کا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہتھیاروں کو صرف ریاست کے ہاتھوں تک محدود کیا جائے۔

ہفتے کے روز بغداد میں مشترکہ آپریشنز کی کمان کے صدر دفتر میں منعقد ایک تقریب میں العبادی نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کو ریاست کے سوا کسی بھی فریق کے ہاتھ میں چھوڑنا جواز کا حامل نہیں۔

ادھر عراقی "حزب اللہ" بریگیڈز نے ملک میں غیر ملکی افواج کو دھمکی دی ہے۔ بریگیڈز کا اشارہ امریکی فورسز کی جانب تھا جو حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے موجود ہے۔

عراقی حزب اللہ کے مطابق امریکی فورسز عراق میں اپنی بقاء کے جواز کے لیے نئے دہشت گرد گروپوں کو جنم دیں گی۔ بریگیڈز کا کہنا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کا فیصلہ تمام غیر ملکی فورسز کے خلاف لڑنے کو مطالبہ کرتا ہے۔

اس سے قبل عراقی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد پر رائے شماری کی تھی جس میں وزیراعظم حیدر العبادی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر ملکی فورسز کے کوچ کے لیے کوئی عرصہ متعین کریں۔

ادھر مقامی میڈیا کے مطابق عراقی حزب اللہ کے ترجمان جعفر الحسینی کا کہنا ہے کہ "ہم امریکی قبضے کے مسئلے سے دوچار ہیں جو سیاسی فیصلے پر بڑی حد تک اثر انداز ہے۔ اس طرح انتخابی عمل میں جانے کا کیا فائدہ .. ہم چاہتے ہیں کہ پہلے اس قبضے سے جان چھڑائی جائے اور پھر سیاسی عمل میں داخل ہوں"۔

الحسینی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "حزب اللہ بریگیڈز امریکیوں کو عراق سے نکالنے والی ہے۔ امریکیوں کی جانب سے اپنے وجود کو توسیع دینے اور عراق مِں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کے مواقع تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں"۔

اس طرح کے بیانات کا مقصد عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی پر مزید دباؤ ڈالنا ہے جن کو امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا شراکت دار شمار کرتا ہے۔

العبادی اپنے ایک پہلے بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ امریکی افواج تربیت اور مشورے کے واسطے ابھی تک عراق میں موجود ہیں۔