.

ایران کے میزائل پروگرام پر گفتگو ہو سکتی ہے، مگر ایک شرط پر؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج نے واضح کیا ہےکہ ان کا ملک میزائل پروگرام پر صرف اس شرط پر بات چیت کے لیے تیار ہوگا کہ مغرب بھی اپنے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تباہ کر دے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ایرنا‘ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل مسعود جزائری نے کہا کہ امریکا اور اس کے حواریوں نے ایران کے میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے کئی طرح کی پابندیاں عاید کیں مگر ان پابندیوں کے نتیجے میں ہماری امنگوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا بلکہ ایران کے میزائل پروگرام میں مزید بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میزائل پروگرام کے حوالے سے ہمارا موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔ اگر مغربی دنیا اپنے جوہری اسلحے کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہو اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ختم کر دے تو ایران بھی ایسا کرسکتا ہے۔

جنرل جزائری نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام پر تنقید خطے میں ان کی ناکامیوں اور شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2015ء کو مغربی ملکوں اور ایران کے درمیان طے پائے معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے میں کئی سقم اور کمزوریاں موجود ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔

یورپی ملکوں کی حکومتیں ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ امریکا کو بھی معاہدے پر راضی کرنا چاہتی ہیں۔