.

صدام حسین کے عزیز و اقارب کی املاک اور اثاثے خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں "احتساب و انصاف کمیٹی" نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کے دور کے درجنوں عہدے داران اور عزیز و اقارب کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔

اتوار کے روز کمیٹی کی جانب سے عراقی حکومت کے علاوہ خزانے ، انصاف اور زراعت کی وزارتوں کو بھیجے گئے خط میں البعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے اُن سابق وزراء اور رہ نماؤں کے نام شامل ہیں جو جیل میں ہیں یا وفات پا گئے ہیں یا پھر انہیں موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ علاوزہ ازیں خط میں مذکورہ شخصیات کی بیویوں ، اولاد ، اولاد کے بچوں اور عزیز و اقارب کے نام بھی دیے گئے ہیں۔

مِن علي الكيمياوي إلى طارق عزيز

فہرست میں صدام حسین کے چچا زاد بھائی علی حسن المجید عُرف "علی الکیمیاوی" (2010ء میں پھانسی دی گئی) ، صدام کے سوتیلے بھائی برزان ابراہیم الحسن التکریتی (2007ء میں پھانسی دی گئی) ، سابق نائب صدر طہ یاسین رمضان (2007ء میں پھانسی دی گئی) اور صدام کے ذاتی سکریٹری عبدالحمید محمود عُرف عبد حمود (2012ء میں پھانسی دی گئی) کے نام ہیں۔

مذکورہ فہرست میں صدام حکومت کے وزیر خارجہ طارق عزیز کا نام بھی شامل ہے جو 2015ء میں فوت ہو گئے تھے۔ طارق عزیز نے عراق پر حملے اور صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد 2003ء میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

دوسری جانب طارق عزیز کے بیٹے زیاد طارق نے اتوار کے روز اعلان کردہ فیصلے کی مذمت کی ہے۔ زیاد کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صرف انتخابات کا وقت قریب آنے پر ووٹ حاصل کرنا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق عزیز کے بیٹے نے کہا کہ "ہم 15 برس سے دباؤ اور ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بہت ہو گیا ، آخر اس نام نہاد حکومت کی نفرت اور بغض کب ختم ہو گا؟"

یاد رہے کہ طارق عزیز نے صدام حسین کے دور میں کئی وزارتیں سنبھالیں جن میں خاص طور پر 1983ء سے 1991ء کے درمیان وزارت خارجہ شامل ہے۔

زیاد طارق کے مطابق "ہم نے سنا کہ عراقی عوام کے خلاف مبینہ طور پر جرائم کے ارتکاب کے ملزمان کو پابندیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا.. مگر دوسرے درجے میں عزیز و اقارب کو اب کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟"

طارق عزیز کے بیٹے نے انکشاف کیا کہ بغداد میں ان کے والد کے گھر پر شیعہ رہ نما اور "الحکمہ الوطنی" گروپ کے سربراہ عمار الحکیم نے قبضہ کر کے اسے اپنا صدر دفتر بنا لیا۔